جوڈیشل کمپلیکس سے قبل خودکش بمبار کہاں حملہ کرنا چاہتا تھا؟ گرفتار ملزمان کے دوران تفتیش اہم انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ہونے والے خودکش حملے کے معاملے میں گرفتار سہولت کار اور ہینڈلر نے تفتیش کے دوران اہم معلومات سامنے لائی ہیں۔
ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور نے ابتدا میں فیض آباد ناکے کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا اور وہ وہاں حملے کے لیے پہنچ بھی گیا تھا، تاہم دھماکا خیز مواد کی پن نہ نکلنے کے باعث وہ حملہ کرنے میں ناکام رہا اور واپس راولپنڈی چلا گیا۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ چند روز بعد ملزم دوبارہ حملے کی نیت سے نکلا اور جوڈیشل کمپلیکس کے باہر خودکش دھماکا کیا، جس میں 13 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 30 زخمی ہوئے۔
ذرائع کے مطابق حملہ آور افغانستان کے صوبے ننگرہار کا رہائشی تھا، جبکہ گرفتار سہولت کار اور ہینڈلر بھی افغانستان میں موجود فتنۃ الخواج گروہ کے کچھ رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں تھے۔ انہیں افغانستان سے کالعدم ٹی ٹی پی کے کمانڈر مسلسل ہدایات دیتے رہے۔
انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی کے کمانڈر سعید الرحمان عرف “داد اللہ” نے ٹیلی گرام کے ذریعے ہدایت دی کہ اسلام آباد میں خودکش حملہ کیا جائے۔ اس نے ساجد اللہ عرف “شینا” کو خودکش بمبار عثمان عرف “قاری” کی تصاویر بھیجیں تاکہ وہ اسے پاکستان میں ریسیو کرے۔ خودکش بمبار عثمان عرف “قاری” شینواری قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اور افغانستان کے ننگرہار علاقے کا رہنے والا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) ملتان زون نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام بنادی۔
ایف آئی اے ملتان زون کے مطابق 2 خواتین کو آف لوڈ کرکے 2 ایجنٹوں کو گرفتار کرلیا۔ مسافروں نے جعلی نکاح نامے پر سوازی لینڈ کے وزٹ ویزے حاصل کیے تھے۔
ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ایجنٹ نے مسافروں کی غیرقانونی امیگریشن کیلیے رشوت دینے کی کوشش بھی کی۔