کچہری خودکش حملہ،ٹی ٹی پی دہشت گرد سیل کے 4 کارندے گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
حملے کی ہدایت ٹی ٹی پی فتنہ الخوارج کے کمانڈر سعیدالرحمان عرف داد اللہ نے دی
خوودکش حملہ آور کے ہینڈلر ساجد اللہ عرف شینا نے دوران تفتیش اعتراف کرلی
انٹیلی جنس بیورو ڈویژن اور سی ٹی ڈی کے مشترکہ آپریشن میں اسلام آباد کچہری حملے میں ملوث ٹی ٹی پی کے دہشت گرد سیل کے 4 کارندوں کو گرفتار کرلیا گیا ۔ خودکش حملہ آور کے ہینڈلر ساجد اللہ عرف شینا نے دوران تفتیش اعتراف کرلیا۔ ساجد اللہ کا کہنا ہے کہ حملے کی ہدایت ٹی ٹی پی فتنہ الخوارج کے کمانڈر سعیدالرحمان عرف داد اللہ نے دی۔سعید الرحمن چرمانگ، باجوڑ کا رہائشی اس وقت افغانستان میں مقیم ہے۔ ساجد اللہ عرف شینا کا مزید کہنا ہے کہ سعید الرحمان عرف داد اللہ باجوڑ کے علاقے نواگئی کے لیے ٹی ٹی پی کا انٹیلی جنس چیف ہے، سعید الرحمان نے ٹیلیگرام ایپ کے ذریعے رابطہ کرکے خودکش حملہ کرانے کا کہا، حملے کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا تھا۔داد اللہ نے ہی ساجد اللہ عرف شینا کو خودکش بمبار عثمان عرف ’’قاری“ کی تصاویر بھیجیں، ساجد اللہ عرف شینا کا کام خودکش بمبار عرفان عرف قاری کو پاکستان میں وصول کرنا تھا، خودکش بمبار عثمان عرف ”قاری“ کا تعلق شنواری قبیلے سے تھا۔ خودکش بمبار عثمان عرف قاری افغان صوبہ ننگرہار کے علاقے اچین کا رہائشی تھا، خودکش بمبار افغانستان سے آیا تو ساجد اللہ عرف ”شینا“ نے اسے اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ٹھہرایا۔کمانڈر داد اللہ کی ہدایت پر ساجد اللہ عرف ”شینا“ نے اکھن بابا قبرستان پشاور سے خودکش جیکٹ لی، ساجد اللہ ہی خودکش جیکٹ اسلام آباد لایا اور دھماکے کے روز خودکش بمبار عثمان کو پہنائی۔ فتنہ الخوارج افغانستان میں موجود اعلیٰ قیادت ہر قدم پر رہنمائی کر رہی تھی۔ واقعے میں ملوث پورا سیل پکڑا جا چکا،آپریشنل کمانڈر 3 ساتھیوں سمیت گرفتار ہو چکا ہے، تحقیقات جاری ہیں، مزید انکشافات اور گرفتاریوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ساجد اللہ عرف شینا داد اللہ ٹی ٹی پی
پڑھیں:
ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔
مزید پڑھیںایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔