اسلام آباد: کچہری خودکش حملے میں ملوث ٹی ٹی پی کے 4 دہشتگرد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں جوڈیشل کمپلیکس جی-11 پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث ٹی ٹی پی/فتنۃ الخوارج کے دہشت گرد سیل کے 4 ارکان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ انٹیلی جنس بیورو ڈویژن اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں یہ کامیابی حاصل ہوئی۔
تفتیش کے دوران ساجد اللہ عرف شینا، جو خودکش حملہ آور کا ہینڈلر ہے، نے اعتراف کیا کہ ٹی ٹی پی/فتنۃ الخوارج کے کمانڈر سعید الرحمن عرف داداللہ نے اسے ٹیلیگرام کے ذریعے رابطہ کرکے اسلام آباد میں حملہ کروانے کی ہدایت دی تھی۔ ساجد اللہ نے بتایا کہ داداللہ نے خودکش بمبار عثمان عرف قاری کی تصاویر بھیجی تھیں اور اسے پاکستان میں پہنچانے کا کام سونپا تھا۔
خودکش بمبار عثمان عرف قاری افغانستان کے ننگرہار کے رہائشی تھے اور شنواری قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ ساجد اللہ نے انہیں اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ٹھہرایا اور دھماکے کے روز خودکش جیکٹ پہنائی، جو اکھن بابا قبرستان پشاور سے حاصل کی گئی تھی۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ افغانستان میں موجود اعلیٰ قیادت ہر قدم پر اس نیٹ ورک کی رہنمائی کر رہی تھی۔ پورا سیل پکڑا جاچکا ہے اور مزید تحقیقات و گرفتاریاں متوقع ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز(security forces) نے 24 مئی 2026 کو پیش آنے والے ریل حادثے کے بعد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں کارروائیاں کیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلوں کے دوران بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الہندوستان کے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور ان علاقوں میں سرگرم دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی اسپانسرڈ ہلاک دہشت گردوں کے زیرقبضہ ہتھیار، باردو اور بڑے پیمانے دھماکا خیز مواد اور مواد تیار کرنے کی ڈیوائسز برآمد کرلی گئیں۔
بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گرد بلوچستان کے ان علاقوں میں دہشت گردی کے کئی اہم واقعات میں ملوث رہے تھے۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے سے دہشت گردوں کے صفایا کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزم استحکام وژن کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی اسپانسرڈ اور تعاون سے جاری دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہو۔