اسلام آباد ہائیکورٹ میں رات گئے غیرمعمولی ہلچل، اہم شخصیات کی ہنگامی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں عدالت عالیہ رات گئے غیر معمولی ہلچل کا مرکز بن گئی، جہاں اہم شخصیات کی ہنگامی ملاقات ہوئی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئی جی اور چیف کمشنر رات گئے ہائی کورٹ پہنچے، جہاں انہوں نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر سے اہم ملاقات کی۔ اس اچانک آمد نے عدالت کے اندرونی ماحول میں غیر معمولی سنجیدگی پیدا کردی اور عدالت کے مرکزی حصے میں کچھ دیر تک ہلچل برقرار رہی۔
اہلِکاروں کی غیر معمولی نقل و حرکت اور اضافی سیکورٹی نے اس واقعے کو میڈیا کی شہ سرخیوں میں بھی جگہ دلائی۔
ذرائع کے مطابق چیف جسٹس سرفراز ڈوگر پہلے ہی ہائی کورٹ میں موجود تھے، جب دونوں اعلیٰ افسران وہاں پہنچے۔ یہ اچانک ملاقات مختصر رہی اور چند منٹ کے بعد آئی جی اور چیف کمشنر واپس روانہ ہوگئے، تاہم اس دورے نے یہ تاثر ضرور پیدا کیا کہ ہائی کورٹ میں کسی اہم معاملے پر پیش رفت جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے بعد نئے ججوں کی حلف برداری کا امکان ہائی کورٹ کی عمارت میں ظاہر کیا جارہا ہے، جس کا براہِ راست تعلق انہی انتظامات سے ہے جو رات گئے کیے گئے۔
اطلاعات کے مطابق آئینی عدالت کے چیف جسٹس کیلیے نامزد جسٹس امین الدین خان سب سے پہلے اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے اور پھر دیگر مقرر کردہ ججوں سے حلف لیں گے۔
اس سلسلے میں ہائی کورٹ کی عمارت میں انتظامات تیزی سے جاری رکھے گئے، جن میں سیکورٹی، پروٹوکول، ہال کی تیاری اور دیگر انتظامی معاملات شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق عمارت کے مختلف حصوں کا معائنہ بھی کیا گیا تاہم چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور رجسٹرار ہائی کورٹ بعد ازاں عمارت سے روانہ ہوگئے۔
اس سے قبل وزیراعظم کی سفارش پر صدر مملکت نے جسٹس امین الدین خان کو وفاقی آئینی عدالت کا پہلا چیف جسٹس مقرر کیا، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن وزارت قانون کی جانب سے جاری کیا گیا۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت سینیٹ اور قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد سامنے آئی، جسے صدرِ پاکستان نے دستخط کر کے آئین کا حصہ بنا دیا۔ اس ترمیم کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا قانونی راستہ واضح ہوا اور ایک نیا عدالتی ڈھانچہ وجود میں آیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آئینی عدالت ہائی کورٹ کے مطابق چیف جسٹس عدالت کے رات گئے
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔