افغان طالبان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں اور بدانتظامی سے افغانستان شدید گراوٹ سے دو چار
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
افغان طالبان حکومت کی نااہلی، معاشی بدانتظامی اور عوام دشمن پالیسیوں کے باعث افغانستان شدید بحران کا شکار ہونے لگا ہے۔
افغان طالبان کے ظالمانہ اقتدار نے افغانستان کو غربت، افلاس اور تباہ حالی کی تصویر بنا دیا۔ اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ نے افغانستان کی تباہ حال معیشت اور عوامی بدحالی کو آشکار کر دیا۔
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی 64.
رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں غربت میں نمایاں کمی کے باوجود افغانستان اس بہتری سے محروم رہا، افغانی عوام اپنی بنیادی ضروریات سے 55.5 فیصد حد تک محروم ہیں۔
افغانستان میں غربت میں اضافے کی بنیادی وجوہات معیارِ زندگی میں 42.5 فیصد، تعلیم میں 33.4 فیصد اور صحت میں 24.1 فیصد تک محرومی ہیں۔ افغان عوام بجلی، صاف پانی، محفوظ رہائش اور طبی سہولیات سے بری طرح محروم ہیں۔
افغان طالبان حکومت کا آمرانہ نظامِ اقتدار دنیا بھر میں جبر، افلاس اور معاشی تباہی کی بدترین مثال بن چکا ہے۔ افغانستان کی تباہ حالی افغان طالبان حکومت کی گمراہ کن حکمرانی کامنہ بولتا ثبوت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغان طالبان
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔