پاک افغان مذاکرات کا روایتی نتیجہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا وہی نتیجہ سامنے آیا ہے جس کی سب کو توقع ہے۔ دونوں ملکوں کے وفود مسلسل مذاکرات کر رہے ہیں لیکن کسی حتمی نتیجے پر بغیر مذاکرات کی نشست اختتام پذیر ہو جاتی ہے۔
تازہ مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کے وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ترکیہ کے شہر استنبول میں جاری مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار ہے، تاہم پاکستان نے مذاکرات میں ثالثی پر ترکیہ اور قطر کا شکریہ ادا کیا ہے۔
گزشتہ روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرجاری اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ پاکستان اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پر قابو پانے کی ذمے داری افغانستان کی طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
افغان طالبان دوحہ امن معاہدے 2021 کے مطابق اپنے بین الاقوامی، علاقائی اور دوطرفہ وعدوں کی تکمیل میں اب تک ناکام ر ہے ہیں جب کہ پاکستان اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ افغان عوام سے خیر سگالی کا جذبہ رکھتا ہے اور ان کے لیے ایک پر امن مستقبل کا خواہش مند ہے تاہم پاکستان طالبان حکومت کے ایسے اقدامات کی حمایت نہیں کرے گا جو افغان عوام یا پڑوسی ممالک کے مفاد میں نہ ہوں،پاکستان اپنے عوام اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
افغانستان کی عبوری حکومت مذاکرات کے ذریعے سوائے وقت ضایع کرنے کے کچھ نہیں کر رہی۔ اس کے باوجود دونوں ملک کسی نہ کسی حوالے سے مذاکرات کی میز پر بیٹھ جاتے ہیں اور کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر مذاکرات کی میز سے اٹھ جاتے ہیں۔
جمعرات کو ترجمان دفترِ خارجہ طاہراندرابی نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول مذاکرات ثالثوں کی نگرانی اور موجودگی میں ابھی جاری ہیں،ہمیں مذاکرات کی کامیابی کے لیے مثبت امیدیں وابستہ ہیں تاہم پاکستانی شہریوں کی جانوں کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ استنبول میں پاکستان کے مذاکراتی وفد کی سربراہی قومی سلامتی کے مشیر عاصم ملک کر رہے ہیں جب کہ ایڈیشنل فارن سیکریٹری بھی وفد کا حصہ ہیں۔پاکستانی وفد نے فتنہ الخوارج سے متعلق مصنفانہ شواہد پرمبنی مطالبات ثالثوں کے حوالے کردیے ہیں،جب تک مذاکرات مکمل نہیں ہوتے، اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے،افغانستان سے جاری حملوں میں معصوم لوگ نشانہ بنتے ہیں۔پاکستان کا بنیادی مطالبہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
ترجمان کے مطابق چمن بارڈرپرفائرنگ افغان طالبان نے کی جس کا پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ذمے دارانہ جواب دیا۔ترجمان نے فائرنگ سے متعلق افغان طالبان کے دعوے کو مسترد کردیا۔انھوں نے کہا کہ ایسے واقعات بارڈرز کی بندش کا باعث بنتے ہیں اور موجودہ سیکیورٹی صورتحال کو دیکھ کر سرحد کھولنے یا بند رکھنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
افغانستان کے امور کو سمجھنے والے ماہرین کی یہ رائے ہے کہ طالبان مذاکرات کے ذریعے زیادہ سے زیادہ وقت حاصل کر رہے ہیں کیونکہ سیز فائر کی وجہ سے طالبان کو خاصی سہولت میسر ہے۔
پاکستان کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ ترکیہ اور قطر اس میں ثالثی کر رہے ہیں۔ اصولی طور پر تو ثالث ملکوں کو دوٹوک مؤقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ طالبان پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ طالبان انڈیا کے ساتھ بھی تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں اور وہاں انڈیا مسلسل سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
یہ صورت حال پاکستان کے لیے زیادہ اچھی نہیں ہے۔ جہاں تک دوحہ معاہدے کی بات ہے تو اس حوالے سے بھی حقائق بالکل واضح ہیں۔ طالبان نے دوحہ معاہدے میں یہ وعدہ کر رکھا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک بشمول پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔
اس کے علاوہ طالبان نے یہ بھی وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروپوں جن میں داعش، خراسان اور ٹی ٹی پی وغیرہ شامل ہیں، ان کے خلاف کارروائی کرے گی تاکہ ان گروپوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ بھی اور بہت سے وعدے کیے گئے ہیں لیکن بدقسمتی سے طالبان نے ان وعدوں پر عمل نہیں کیا ہے۔ ٹی ٹی پی کے حوالے سے پاکستان کے خدشات محض خدشات نہیں ہیں بلکہ طالبان کی قیادت کو بخوبی علم ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے تربیتی کیمپ موجود ہیں۔
ٹی ٹی پی کی قیادت افغانستان میں کھلے عام پھر رہی ہے۔ اس کے باوجود طالبان قیادت ٹی ٹی پی کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کر رہی اور نہ ہی پاکستان کو مطلوب دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔
استنبول مذاکرات میں بھی یہی موضوع زیربحث رہا ہے۔ طالبان تحریری معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ طالبان کی قیادت دوہری پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔ طالبان کا مذاکراتی وفد بھی حتمی مینڈیٹ کا حامل نہیں ہے۔
وہ مذاکرات کے دوران ہی کبھی کابل اور کبھی کندھار میں اپنے لیڈروں سے اجازت نامہ طلب کرتے ہیں۔ افغانستان کا حکومتی اسٹرکچر بھی اس قسم کا ہے کہ مذاکراتی وفد اسٹیٹ آف افغانستان کے مفادات کو سامنے رکھ کر مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھ رہا بلکہ وہ اپنے لیڈروں کے طابع ہو کر مذاکرات کرتے ہیں۔
اگر لیڈر انکار کر دے تو ان کے پاس اقرار کی گنجائش نہیں ہوتی ہے۔ طالبان کے وفد کا یہی سب سے بڑا ڈرابیک ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے طالبان رجیم کا پورے افغانستان پر کنٹرول نہیں ہے۔ افغانستان میں جو گروہ برسراقتدار ہیں، وہ مختلف جتھوں کی نمایندگی کرتے ہیں اور ہر جتھے کا اپنا اپنا لیڈر یا کمانڈر ہے۔
اسی طرح نیچے گراس روٹ لیول تک یہی سلسلہ چلتا ہے۔ طالبان کا وفد استنبول میں مذاکرات کر رہا ہوتا ہے تو کوئی عسکریت پسند گروپ پاک افغان سرحد پر دہشت گردی کی واردات کرنے پہنچ جاتا ہے۔ اس وقت بظاہر سیزفائر قائم ہے لیکن غور کیا جائے تو افغانستان سے آنے والے دہشت گرد اس سیزفائر سے باہر ہیں۔
پاکستان چونکہ ایک آرگنائزڈ ریاست ہے، اس کی ایک منظم فورس ہے، اس لیے یہ تو سیزفائر کے عہد پر قائم ہے لیکن دہشت گردوں کو اس قسم کے عہد کا کوئی پاس نہیں ہوتا۔ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد کسی قانون اور ضابطے کے پابند ہیں ہی نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ افغانستان سے پاکستان کی جانب مسلسل دہشت گردی کی وارداتیں ہو رہی ہیں۔ طالبان کی قیادت کا المیہ یہ ہے کہ وہ یہ بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ وہ دہشت گرد گروپوں کو پوری طرح کنٹرول نہیں کر سکتی۔
اگر وہ یہ تسلیم کر لیں تو پاکستان کے ساتھ تعاون کر کے دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔ اس کے لیے دوست ممالک بھی مدد کر سکتے ہیں۔ اطلاعاتی شیئرنگ بھی ہو سکتی ہے لیکن اس کے لیے سچائی کو تسلیم کرنا پہلی شرط ہے۔
افغانستان میں مسلسل بدامنی اور دہشت گرد گروپوں کا بلا روک وٹوک وہاں نقل وحرکت کرنا ہمسایہ ممالک کے لیے مسائل کا باعث تو ہے ہی لیکن وہ افغانستان کے عوام اور افغانستان بطور ریاست بھی اس کے حق میں نہیں ہے۔
افغانستان کی تعمیر وترقی کے سفر کے لیے امن وامان کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ ابھی افغانستان کی حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ چند ایک جن ممالک نے ان کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے ہیں، وہ بھی اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر کیے ہیں۔
ان کا مقصد افغانستان کے عوام کو خوشحال بنانا، افغانستان میں امن قائم کرنا نہیں ہے۔ وہ اس صورت حال سے مختلف قسم کے فوائد اٹھانے کے لیے افغانستان کی رجیم کے ساتھ تعلقات قائم کر رہے ہیں۔ افغانستان کی طالبان حکومت کو اس صورت حال کا ادراک ہونا چاہیے۔
افغانستان کو ترقی کے لیے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا لازم ہے۔ خصوصاً پاکستان کے تعاون کے بغیر افغانستان معاشی ترقی نہیں کر سکتا۔ افغانستان کے تمام تجارتی راستے پاکستان سے ہو کر گزرتے ہیں۔
گو اس کی سرحدیں ایران کے ساتھ بھی ملتی ہیں لیکن پاکستان کی راہداریاں اور ٹریڈ روٹس زیادہ بہتر اور کم خرچ ہیں۔ وسط ایشیا کے ساتھ بھی اس کی تجارت بھی اسی صورت میں پھل پھول سکتی ہے جب افغانستان میں امن قائم ہو گا، تجارتی راستے کھلیں گے اور افغانستان میں ایسی ذمے دار حکومت قائم ہو گی جسے اقوام عالم بھی تسلیم کرتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ افغانستان کی عبوری حکومت ایسے اقدامات کرے جس سے دوحہ معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد ہوتا ہوا نظر آئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہ افغانستان کی سرزمین ہے کہ افغانستان کی اور افغانستان افغانستان میں افغان طالبان افغانستان کے تعلقات قائم پاکستان کے ٹی ٹی پی کے مذاکرات کے کہ پاکستان مذاکرات کی ان کے خلاف کر رہے ہیں طالبان نے کہ طالبان اور افغان تسلیم کر کرتے ہیں کی قیادت کے حوالے حوالے سے کیا جائے ہے کہ وہ نہیں کر کے ساتھ نہیں ہے کرنے کے نہیں ہو ہیں اور بھی اس کے لیے نے کہا ہے ہیں
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔