Express News:
2026-06-03@03:36:36 GMT

پاک افغان مذاکرات

اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT

پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں فریقین سرحد پار سے دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے کسی قابل عمل منصوبے پر نہ پہنچ سکے۔ دوسری جانب چمن بارڈر پر افغانستان سے کچھ عناصر نے پاکستانی علاقے پر بلااشتعال فائرنگ کی۔ وزارت اطلاعات نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی بدستور برقرار رہے گی اور پاکستان سرحدی امن و استحکام کے برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ سے خطے کے سیاسی، سیکیورٹی اور سفارتی منظرنامے میں ایک اہم مقام رکھتے آئے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، لسانی اور ثقافتی رشتوں کی گہری جڑیں ہیں، مگر ساتھ ہی یہ رشتے بد اعتمادی، مداخلت اور بارڈر سیکیورٹی کے مسائل سے بھی گندھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں میں افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوں گے، کیونکہ کابل میں ایک ایسا نظام قائم ہوا جسے پاکستان کے بعض حلقے اپنے لیے نسبتاً موافق تصور کرتے تھے، مگر افسوس کہ یہ توقعات جلد ہی کمزور پڑگئیں۔ آج پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات ایک بار پھر تناؤ، عدم تعاون اور باہمی شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ استنبول میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کا بے نتیجہ ختم ہونا، اسی بحران کی تازہ جھلک پیش کرتا ہے۔

آٹھ گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود فریقین کسی واضح اور قابلِ عمل منصوبے پر متفق نہ ہو سکے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات بدستور برقرار ہیں۔ یہ مذاکرات دراصل سرحد پار دہشت گردی، امن و امان کی صورتحال اور جنگ بندی کے مؤثر نفاذ کے طریقہ کار پر مرکوز تھے۔

افغان طالبان کی حکومت سے پاکستان کا سب سے بڑا مطالبہ یہی رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ پاکستان کے مطابق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسند افغانستان کے اندر محفوظ پناہ گاہوں میں موجود ہیں، جہاں سے وہ پاکستان کے سرحدی علاقوں پر حملے کرتے ہیں۔ دوسری جانب افغان طالبان کا موقف ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیتے اور دہشت گردی کی ذمے داری ان کے دائرہ اختیار سے باہر کے عناصر پر عائد ہوتی ہے۔

استنبول مذاکرات میں اگرچہ ایک اہم پیش رفت یہ رہی کہ دونوں فریقوں نے جنگ بندی کے نفاذ کے لیے ایک نگرانی اور تصدیقی نظام قائم کرنے پر اصولی اتفاق کیا، مگر عملی طور پر یہ اتفاق ابھی ابتدائی نوعیت کا ہے۔ اس نظام کی تشکیل، اس کے فریم ورک اور اس کے نفاذ کی نوعیت پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات میں اعتماد کا فقدان بدستور حائل ہے۔

اسی دوران بلوچستان کے ضلع چمن میں افغان علاقے کی سمت سے بلااشتعال فائرنگ اور راکٹ حملے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن اس واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ کر دیا۔ پاکستان نے واضح کیا کہ جنگ بندی برقرار ہے اور سرحدی امن و استحکام کے لیے اس کی پالیسی تبدیل نہیں ہوئی۔ دفترِ خارجہ نے افغان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحمل کا مظاہرہ کرے گا، مگر ساتھ ہی اپنے دفاعی اقدامات کے لیے تیار رہے گا۔ ان بیانات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات فی الحال کشیدگی کے ایک نازک موڑ پر ہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد خطے میں طاقت کے توازن میں بنیادی تبدیلیاں آئیں۔ طالبان کا فوکس داخلی استحکام پر ہے، مگر ان کی پالیسیوں میں علاقائی ہم آہنگی کی کمی نظر آتی ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ کابل حکومت سرحدی نگرانی میں تعاون کرے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے خلاف عملی اقدامات کرے، لیکن افغان طالبان اس مطالبے کو اپنی خود مختاری کے خلاف سمجھتے ہیں، یہ نکتہ دونوں کے درمیان سب سے بڑا فاصلہ پیدا کر رہا ہے۔

پاکستان کے لیے سرحد پار دہشت گردی کا مسئلہ قومی سلامتی سے براہ راست منسلک ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ملک کے مختلف حصوں، خاص طور پر خیبرپختونخوا، بلوچستان اور قبائلی اضلاع میں شدت پسند حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ان حملوں کی ذمے داری اکثر ٹی ٹی پی قبول کرتی رہی ہے، جس کے بارے میں پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کے جنگجو افغانستان میں موجود ہیں، اگر کابل حکومت اپنے وعدوں پر قائم رہتی اور ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرتی تو ممکن ہے کہ حالات اتنے بگڑتے نہیں، مگر طالبان قیادت کا رویہ عموماً خاموشی یا تردید تک محدود رہا ہے، جس سے پاکستان کے اندر مایوسی بڑھ رہی ہے۔

دوسری جانب طالبان حکومت خود بھی عالمی تنہائی کا شکار ہے، اسے تسلیم کرنے والا کوئی بڑا ملک تاحال سامنے نہیں آیا۔ ایسے میں پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے بجائے سفارتی تعاون کا ماحول پیدا کرنا زیادہ موزوں حکمتِ عملی ہو سکتی ہے، مگر پاکستان کے داخلی حالات اور سیکیورٹی خدشات اسے ایسا کرنے نہیں دیتے۔

استنبول مذاکرات کا انعقاد بذاتِ خود ایک مثبت پیش رفت تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق مکمل قطع تعلق کے بجائے بات چیت کا راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم مذاکرات کا بے نتیجہ ختم ہونا، اس بات کا اشارہ ہے کہ محض سفارتی بیانات یا عمومی اتفاقِ رائے سے عملی بہتری ممکن نہیں۔ جب تک دونوں فریق زمینی حقائق کا ادراک نہیں کریں گے اور اعتماد سازی کے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائیں گے، اُس وقت تک یہ مذاکرات کاغذی وعدوں سے آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔

افغان طالبان کو بھی سمجھنا ہوگا کہ پاکستان ان کے خلاف نہیں بلکہ اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے بات کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کو مشترکہ دشمنوں دہشت گرد گروہوں، اسمگلنگ نیٹ ورکس اور سرحد پار غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف مل کر کام کرنا ہوگا۔

افغانستان کے ساتھ جاری مذاکرات کی ناکامی نے ایک بار پھر خطے میں پائے جانے والے عدم اعتماد اور مفادات کے تصادم کو نمایاں کر دیا ہے۔ بظاہر امن و تعاون کے نام پر ہونے والے یہ مذاکرات اب اس تاثر کو تقویت دے رہے ہیں کہ کابل کی قیادت مذاکرات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے محض وقت حاصل کرنے کی ایک حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اس رویّے نے نہ صرف بات چیت کے عمل کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ خطے میں استحکام کے امکانات کو بھی کمزور کر دیا ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن و ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ چاہے وہ انسانی بنیادوں پر امداد ہو یا سیاسی و سفارتی تعاون، اسلام آباد نے ہر موقع پر یہ امید رکھی کہ ایک مستحکم افغانستان ہی خطے کے امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔ تاہم حالیہ حالات میں یہ افسوسناک تاثر ابھر رہا ہے کہ افغان طالبان، جنھیں کبھی پاکستان کی حمایت حاصل تھی، اب بھارت کے اثر میں آ کر پاکستان مخالف ایجنڈے کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو یہ نہ صرف دو برادر اسلامی ممالک کے تعلقات کے لیے تشویش ناک ہے بلکہ احسان فراموشی کی بدترین مثال بھی کہلائی جا سکتی ہے۔

 افغان طالبان کے لیے یہ وقت امتحان کا ہے۔ ان کی حکومت اگر واقعی ایک ذمے دار ریاست کے طور پر تسلیم ہونا چاہتی ہے تو اسے اپنی سرزمین پر مکمل کنٹرول دکھانا ہوگا۔ آخرکار، یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان اور افغانستان کا مستقبل ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ اگر ایک ملک میں امن نہیں ہوگا تو دوسرے کے لیے بھی پائیدار استحکام ممکن نہیں۔ دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات جیسے مسائل دونوں ممالک کے مشترکہ دشمن ہیں۔ ان کے خلاف کامیابی صرف اس وقت ممکن ہے جب کابل کھلے دل، خلوص اور اعتماد کے ساتھ بیٹھے۔

استنبول مذاکرات اگرچہ فوری نتائج نہ دے سکے، مگر یہ عمل ایک تسلسل کا متقاضی ہے۔ امن کی راہ ہمیشہ مشکل ہوتی ہے، مگر یہی وہ راستہ ہے جو خطے کو ترقی، خوشحالی اور استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔ افغان رہنماؤں کو وقتی سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر مستقبل کی نسلوں کے لیے امن کی بنیاد رکھنی چاہیے، اگر آج ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا تو آنے والے دنوں میں یہ سرحد محض جغرافیائی لکیر نہیں بلکہ بداعتمادی کی دیوار بن جائے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ افغان طالبان جذبات کے بجائے عقل، سفارت کے بجائے مفاہمت اور الزام تراشی کے بجائے اشتراکِ عمل کا راستہ اختیار کریں۔ یہی راستہ ان کے لیے بھی بہتر ہے اور خطے کے امن کے لیے بھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان اور افغان دونوں ممالک کے افغانستان میں افغان طالبان مذاکرات کا یہ مذاکرات پاکستان کے کے تعلقات طالبان کے کے درمیان کے بجائے کہ دونوں سرحد پار نے والے کے خلاف کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟