اسلام آباد:

ترکیہ کے شہر استنبول میں جاری افغان طالبان سے مذاکرات کے دوران پاکستان کی جانب سے شواہد پر مبنی مطالبات ثالثوں کے حوالے کر دیے گئے۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان کی جانب سے مذاکراتی وفد کی سربراہی قومی سلامتی کے مشیر عاصم ملک کر رہے ہیں جبکہ ایڈیشنل فارن سیکریٹری بھی وفد کا حصہ ہیں۔ ہمارا مذاکراتی وفد استنبول میں موجود ہے تاہم مذاکرات کی تکمیل تک تبصرہ نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ استنبول میں پاکستانی مذاکراتی وفد نے ثالثوں کو اپنی لوجیکل معلومات شیئر کی ہیں، یہ معلومات مصنفانہ ہیں اور فتنۃ الخوارج سے متعلق ہیں۔ ہمارے مطالبات نہایت سادہ، واضح، منصفانہ اور شواہد پر مبنی ہیں لیکن مذاکرات کے نتائج تک ہم کوئی بیان یا تبصرہ نہیں کریں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ روز پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں مذاکرات شروع ہوئے، مذاکرات ثالثوں کی موجودگی اور نگرانی میں ہو رہے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے چمن بارڈر پر فائرنگ سے متعلق افغان طالبان کا دعویٰ بھی مسترد کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ دراصل فائرنگ افغان طالبان کی جانب سے کی گئی اور پاکستان کے سیکیورٹی فورسز نے جواب دیا، اس طرح کے واقعات سے بارڈز بند رہتے ہیں، باڈرز کھولنے سے متعلق چمن واقعے نے کوئی اچھی مثال قائم نہیں کی۔

طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ سیکیورٹی صورتحال خراب رہنے تک افغانستان کے ساتھ بارڈرز بند رہیں گے اور سیکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھ کر بارڈرز سے متعلق کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم شمالی افغانستان میں تباہ کن زلزلے سے ہونے ولے جانی و مالی نقصانات پر افسوس و تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔

غزہ امن فوج

ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ غزہ میں امن فوج بھیجنے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی لیکن ابھی اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے خفیہ ادارے کی دوسرے ملک کی خفیہ ادارے کے ساتھ ملاقاتوں کو مسترد کیا، پاکستان نے نہ کوئی ملاقات کی اور نہ کسی سے غزہ فوج کے بدلے رقم مانگی۔

ترجمان نے کہا کہ ہندوستانی میڈیا بے بنیاد خبروں کے لیے مشہور ہے۔ بھارتی میڈیا کی انٹیلیجنس افسران کی ملاقاتوں اور پیسے کے حوالے سے افواہیں پریوں کی کہانیاں ہیں۔

ہندو یاتریوں کی پاکستان آمد

طاہر اندرابی نے کہا کہ بدھ کے روز بھارتی میڈیا نے ہندو یاتریوں کے پاکستان داخلے ہونے سے روکنے کی خبر چلائی، پاکستان اس خبر کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ پاکستان نے 2400 ہندو یاتریوں کو ویزے جاری کیے لہٰذا بھارتی دعوے اور خبریں حقائق کے منافی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ کچھ ہندو یاتریوں کو نامکمل دستاویز کی بنیاد پر واپس بھیجا گیا، دستاویزات مکمل کرنے پر انہیں بھی ویزے دیے جائیں گے۔

وزیراعظم، صدر اور نائب وزیراعظم کے دورے

ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف آذربائیجان روانہ ہوگئے، وہ باکو میں یوم فتح کی تقریبات میں شریک ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ صدر مملکت نے حال ہی میں قطر کا دورہ کیا، صدر مملکت نے اجلاس کی سائیڈ لائنز پر متعدد عالمی رہنماوں سے ملاقاتیں کیں۔ صدر مملکت نے سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دیا۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ اسحاق ڈار نے ترکیہ وزیر خارجہ کی دعوت پر ترکیہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے غزہ کے حوالے سے مسلم اکثریتی ممالک کے اجلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے اجلاس میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور امداد تک رسائی پر زور دیا، انہوں نے فلسطین پر پاکستان کے موقف کی تجدید کی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اجلاس کی سائیڈ لائنز پر نائب وزیر اعظم نے ترکیہ وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی، فریقین نے پاک ترکیہ مثبت تعلقات کی ٹریجیکٹری پر اظہار اطمینان کیا۔ واپسی پر اسحاق ڈار نے گوگل کروم سمٹ میں بھی شرکت کی، اسحاق ڈار نے کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند سے ٹیلیفونک بات چیت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: طاہر اندرابی نے افغان طالبان ہندو یاتریوں استنبول میں پاکستان نے دفتر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا