پاکستان اور افغانستان کے مابین دوحہ کے بعد ترکیہ کے شہر استنبول میں ہونے والے مذاکرات افغان طالبان کی ضد ، ہٹ دھرمی اور منافقت کی نذر ہوگئے ہیں۔ استنبول میں جاری رہنے والے ان مذاکرات میں تیسرے دن بات چیت کا سلسلہ 18 گھنٹے تک جاری رہا۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان سے مذاکرات ختم ہوگئے، ثالثوں نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیے، خواجہ آصف

پاک افغان مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟ اس کا تعلق قطعی طور پر پاکستان کی سفارتکاری سے نہیں ۔ اصل وجہ افغان حکومت کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ اور بھارت جیسی پس پردہ طاقتوں کا گھناؤنا کھیل تھا۔پہلے ہی اجلاس سے یہ واضح ہو گیا کہ افغان وفد ایک آواز ہو کر مذاکرات نہیں کر رہا۔ تین مسابقتی بلاکس قندھار، کابل اور خوست افغان مذاکراتی وفد میں شامل مندوبین کو الگ الگ ہدایات دے رہے تھے۔

امریکی ضمانت کا غیر متوقع مطالبہ

جب بات چیت فتنہ خوارج کے محفوظ ٹھکانوں پر تحریری ضمانتوں کے مرحلے تک پہنچی تو قندھار کے دھڑے نے آگے بڑھنے کے لیے خاموشی سے آمادگی کا اشارہ دیا تھا لیکن پھر وقفے کے دوران انہوں نے اچانک اصرار کیا اور کہا کہ ’کسی بھی معاہدے پر دستخط نہیں کیے جا سکتے جب تک کہ امریکا باضابطہ ضامن کے طور پر شامل نہ ہو‘۔حالانکہ ایسی کوئی بات ایجنڈے کا حصہ نہیں تھی اور نہ ہی اسے مذاکرات کے پچھلے ادوار میں اٹھایا گیا تھا۔

Pakistan is thankful to brotherly countries of Turkiye and Qatar for mediation of talks; onus lies on Afghanistan to fulfill its long standing international/ regional and bilateral pledges, regarding control of terrorism in which so far they have failed.

Pakistan does not harbor…

— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) November 7, 2025

سیکیورٹی مذاکرات کو مالیاتی سودے میں بدلنے کی کوشش

اس اقدام نے ثالثوں کو بھی حیران کر دیا کیونکہ یہ سیکیورٹی کے بارے میں نہیں تھا۔ یہ واشنگٹن کے ذریعے مالیاتی راہداری کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں تھا۔انہوں نے دو طرفہ سکیورٹی مذاکرات کو 3 فریقی ڈونر سے منسلک انتظام میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ۔اس سارے کھیل کا مقصدبنیادی طور پر سیکیورٹی فائل کو امداد کے لیے سودے بازی کی چپ میں تبدیل کرنا تھا۔

افغان وفد میں کنفیوژن اور بیرونی اثرات

ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان بینچوں پر واضح کنفیوژن تھی۔ ایک مندوب سرکاری وفد کے باہر بیٹھے ہینڈلر سے ہاتھ سے لکھی ہوئی چٹ پر ہدایات لے رہا تھا۔ ایک مندوب بار بار کابل سے فون پر بات کرنے کے لیے کمرے سے نکل گیا۔ ان فون کالز کے بعد ہر متفقہ شق کو اچانک دوبارہ کھول دیا جاتا۔ پہلے سے کلیئر پوائنٹس کو زیر جائزہ رکھا جاتا اور ٹائمنگ کو جان بوجھ کر گھسیٹا جاتا رہا۔ یہ صورتحال افغان طالبان کے عزائم کو بے نقاب کرگئی، وہ بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کی سالمیت سے کھیلنے کے ناپاک ارادے لیے ہوئے ہیں۔

امریکی ضامن کا مطالبہ اور اس کے پس پردہ عزائم

جہاں تک ان کی جانب سے امریکا کو شامل کرنے کا مطالبہ آیا ، تو یہ بات واضح ہے کہ امریکی ضامن کے لیے اس دباؤ کا خودمختاری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ مالیاتی بحالی کی حکمت عملی ہے، اگر تعاون شروع ہوتا ہے، تو ’معاشی مدد‘ کے لیے بات چیت دوبارہ کھل جاتی ہے۔ان مذاکرات میں قطر اور ترکیہ دونوں سہولت کاری کا کردار ادا کررہے تھے دونوں نے 3 نکات کو تسلیم کیا تھا۔

1۔پاکستان کے مطالبات جائز اور بین الاقوامی اصولوں کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔

2. افغان سائیڈاندرونی عدم تحفظ کی وجہ سے مسدود ہے۔

3۔کابل کا دھڑا خاص طور پر چاہتا ہے کہ مالی فائدہ اٹھانے کے لیے فائل کو واشنگٹن کی طرف گھسیٹا جائے۔

افغان حکومت کی اندرونی تقسیم اور بھارتی اثر

افغان حکومت اندرونی طور پر منقسم ہے۔اہم دھڑے ڈالر کی پائپ لائن کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے امریکا کو واپس کھینچنا چاہتے ہیں۔ وہ فتنہ خوارج کے خلاف کارروائی کرنے کو تیار نہیں کیونکہ فتنہ خوارج ان کی آخری بارگیننگ چپ اور انڈین منی کی انشورنس ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاک افغان بارڈر کی بندش: خشک میوہ جات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

پاکستانی وفد کا مؤقف اور بردباری

جب تک کابل اپنی اندرونی طاقت کی کشمکش کو حل نہیں کرتا اور دہشتگردی کو سیاسی کرنسی میں تبدیل کرنے کی کوششیں بند نہیں کرتا، کوئی پیشرفت ممکن نہیں۔افغان طالبان کے اسی لالچ اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے ۔ پاکستانی وفدنے انتہائی بردباری اور سنجیدگی سے امن کی راہ تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کی ، جبکہ میزبانوں نے بھی پاکستان کے مؤقف کو منطقی، مضبوط اور عالمی اصولوں کے عین مطابق قرار دیا۔

دفاعی ذرائع اور فتنہ خوارج کے خلاف کارروائیاں

دفاعی ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغان حکام کو دہشت گردی کی روک تھام کے لیے ایک جامع پلان پیش کیا ہے۔ افغان طالبان کی اس ضد، ہٹ دھرمی اور منافقت پر مبنی پالیسی سے واضح ہوگیا کہ فتنہ خوارج کے بعد افغان طالبان نے بھی پاکستان کے خلاف بھارت کی پراکسی وار کا ٹوکرا اپنے سر پر اٹھا لیا ہے، جس کے باعث پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے مدمقابل آگئے ہیں۔

سرحدی کشیدگی اور پاکستانی جوابی کارروائی

افغانستان کی جانب سے دہشتگردوں کی دراندازی کے واقعات کئی برسوں سے جاری تھے تاہم دونوں ملکوں کے مابین صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب افغان عبوری حکومت کے وزیر خارجہ ملا امیر متقی کا دورہ ہندوستان اور اس دوران افغانستان کی جانب سے برادر اسلامی، ہمسایہ اور محسن ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف افغان طالبان اور فتنہ خوارج کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا ۔ جس کے نتیجے میں پاک فوج کے 23 جوان شہید اور 20 زخمی ہوئے۔پاک فوج نے فیصلہ کن جوابی کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 200 افغان طالبان اور فتنہ خوارج کے دہشتگردوں کو ہلاک کیا اور 19 سے زائد افغان پوسٹوں پر قبضہ کر لیا۔

افغان ٹھکانے اور پاکستانی احتیاط

افغان سرزمین پر دہشتگردوں کے ٹھکانے، تربیتی مراکز اور بٹالین ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا، جن میں درانی کیمپ، غر نالی ہیڈکوارٹر، ترکمان زئی کیمپ اور منوجیا بٹالین شامل ہیں۔ پاک فوج نے کارروائی کے دوران شہری نقصانات سے بچنے کے لیے خصوصی احتیاط برتی اور دہشتگردوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا۔افغانستان کی جانب سے یہ سرحدی کشیدگی اسی پراکسی وار کا حصہ معلوم ہوتی ہے جو بھارت نے پاکستان کے خلاف شروع کررکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاک افغان مذاکرات: ایک کے بعد ایک نیا گیم، نصرت جاوید نے حقائق سے پردہ اٹھادیا

جنگ بندی اور دوحہ مذاکرات

پاکستان کے بھرپور جوابی وار اور بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد افغان حکومت بار بار جنگ بندی کی دوہائی دیتی رہی، لیکن پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا اس لیے پاکستان نے افغان عبوری حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی کسی درخواست کا مثبت جواب نہیں دیا تاہم سعودی عرب ، قطر ، ترکیہ ، ملائیشیا ایسے برادر اسلامی ممالک کی بار بار درخواست پر پاکستان نے پہلے 48 گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان کیا اور بعد ازاں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں فریقین کے مابین مذاکرات کا آغاز ہوااور ایک متفقہ اعلامیہ بھی جاری ہوا۔

دوحہ مذاکرات کا اعلامیہ

دونوں ملکوں کے درمیان دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی گئی ۔ جس میں افغان طالبان نے تسلیم کیا کہ وہ پاکستان مخالف عناصر کی حمایت نہیں کریں گے۔ دوسرے لفظوں میں طالبان حکومت نے فتنہ خوارج کی سرپرستی کو تسلیم کیا۔ دوحہ مذاکرات 13 گھنٹے تک جاری رہے جس میں دو برادر اسلامی ممالک قطر اور ترکیہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔

استنبول مذاکرات اور پاکستانی مؤقف

معاہدے کے تحت فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ سرحدی تناؤ میں کمی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔ بعد ازاں 25 اکتوبر کو دونوں ملکوں کے مابین ایک بار پھر مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا ، اس بار مذاکرات کی میز ترکیہ کے شہر استنبول میں سجی۔

ذرائع کے مطابق طالبان نمائندوں نے فتنہ خوارج کو پاکستانی سرحد سے دور منتقل کرنے کی پیشکش کی تھی، جس کے جواب میں پاکستان نے افغان طالبان سے فتنہ خوارج کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے کے وعدوں پر عملدر آمد پر زور دیا۔ پاکستانی وفد نے اپنے حتمی مؤقف میں واضح کر دیا تھا کہ افغان طالبان کی طرف سے کی جانے والی دہشتگردوں کی سرپرستی نامنظور ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اور یقینی اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس کے برعکس افغان طالبان کے دلائل غیر منطقی اور زمینی حقائق سے ہٹ کر تھے، نظر آ رہا تھا کہ افغان طالبان کسی اور ایجنڈے پر چل رہے ہیں، یہ ایجنڈا افغانستان، پاکستان اور خطے کے استحکام کے مفاد میں نہیں۔ مذاکرات میں مزید پیشرفت افغان طالبان کے مثبت رویے پر منحصر تھی۔ پاکستان اس اصولی موقف پر ڈٹا رہا کہ مطالبے پر عمل نہ ہوا تو پاکستان کسی بھی طرح کی لچک نہیں دکھائے گا اور اپنے قومی مفادات اورسلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کا حق محفوظ رکھے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پاک افغان جنگ بندی میں توسیع، طالبان کا خلوص ایک ہفتے میں واضح ہوجائے گا، ماہرین

تاریخی تناظر اور دو طرفہ بداعتمادی

تاریخ پر نظر ڈالیں تو پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ابتدا سے ہی تنازعات اور اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ برادر اسلامی ممالک کے تعلقات جغرافیائی قربت،مذہبی اور ثقافتی رشتے،تاریخی راوبط ہونے کے باوجود ہمیشہ اعتماد کے فقدان، سلامتی کے خدشات ، سیاسی اختلافات اور وعدی خلافیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔

افغان مہاجرین اور سلامتی کے مسائل

سوویت افغان جنگ میں پاکستان نے افغان جنگ کی حمایت کی جس کے بعد لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان آئے اور پاکستان آج بھی ان افغان مہاجرین کا حق میزبانی بخوبی نبھا رہا ہے مگر یہ پاکستان کی اکانومی پر ایک بڑا بوجھ ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ و غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد تقریباً 4 ملین کے قریب ہے۔ افغان مہاجرین میں سے بعض دہشت گرد نیٹ ورکس، منشیات اورسمگلنگ میں ملوث پائے جاتے ہیں اور اس کے ٹھوس شواہد بھی سامنے آچکے ہیں پاکستان یہ معاملہ کئی مرتبہ اٹھاچکا ہے مگر انسانی حقوق کے مسائل اور عالمی دباؤکے باعث یہ معاملہ حل نہیں ہو رہا۔

پاک افغان مذاکرات میں طے پانے والے نکات کا عکس

طالبان حکومت کا ماضی اور موجودہ طرزِ عمل

اس طرح اگر افغانستان میں طالبان رجیم کا 1996-2001 کا جائزہ لیں تو پاکستان ان چند ممالک میں شامل تھا جس نے طالبان کی حکومت تسلیم کی مگر اس کےبعد 9/11 رونما ہوا جس نے پوری دنیا کی سیاست میں یکسر تبدیلی بپا کی ۔پاک افغان سرحد سے بارڈر کراسنگ، اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل و حرکت سے پاکستان کو سلامتی اور معیشت دونوں پہلوؤں پر انتہائی سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ 2017 سے پاکستان نے سرحد پر باڑ لگانا شروع کی تھی جس میں اہم پیش رفت ہوچکی ہے۔ پاکستان عالمی برادری اور افغانستان کو یہ باور کراچکا ہے کہ افغان سرزمین سے فتنہ خوارج اور دیگر دہشتگرد گروہ پاکستان پرحملے کرتے ہیں اور وہاں پر بھارتی آشیرباد سے پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہےاور یہ بات بالکل واضح ہوچکی ہے کہ افغانستان کی موجودہ طالبان حکومت ان دہشت گرد گروہوں کو نہ صرف روکنے میں ناکام ہے بلکہ اس حوالے سے نرم رویہ بھی اختیار کیے ہوئے ہے۔

افغان طالبان کے مختلف دھڑے اور پاکستان مخالف بیانیہ

یہ بات بھی اہم ہے اورذہن نشین کرلی جائے کہ طالبان حکومت کے اندر مختلف دھڑے ہیں، کچھ سخت گیر گروہ ہیں جو پاکستان مخالف بیانیے کو ہوا دیتے ہیں۔2021 ءمیں طالبان کی واپسی اور حکومتی سیٹ اپ میں آنے کے بعد پاکستان کو اس بات پر مکمل یقین تھا کہ اب سرحدی مسائل اور دہشت گردی کے واقعات ختم ہوں گےمگر حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ فتنہ خوارج اوراس قبیل کے دیگر دہشت گرد گروہوں کے حملوں میں اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:پاک افغان مذاکرات ناکام، پاکستانی وفد کو استنبول میں رکنا پڑگیا، ٹی ٹی پی کا اہم ترین کمانڈر ہلاک

بھارتی اثر و رسوخ اور پاکستان کے شواہد

بارڈ کراسنگ پر جھڑپیں ہوئیں اور سرحدبند کرنے کے کئی واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔ پاکستان نے سفارتی سطح اور سیاسی پلیٹ فارم اور حکومتی لیول پر افغانستان سے یہ معاملات اٹھائے مذاکرات کیے مگر نتیجہ صفر۔ افغانستان میں پراکسیز اور بھارتی اثر و رسوخ ہمیشہ پاکستان کے لیے تشویش کا باعث رہا ہے۔ اسلام آباد کے پاس ٹھوس شواہد ہیں اور یہ کئی مرتبہ عالمی سطح پر بتایا گیا ہے اورکابل کو شواہد بھی دکھائے گئے کہ بھارت افغان سرزمین استعمال کرکے پاکستان میں دہشتگردی کرا رہا ہےاور پاکستان میں امن کے درپے ہے۔ پاکستان یہ معاملہ بارہا اقوام متحدہ، او آئی سی اور شنگھائی تعاون تنظیم ایس سی او جیسے فورمز پر یہ مسئلہ اٹھا چکا ہے، اور عالمی برادری سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

اعتماد کا بحران اور علاقائی خطرات

دونوں ملکوں کےتعلقات اعتماد کے بحران میں پھنسے ہوئے ہیں۔طالبان کی جانب سے دانستہ طور پر سرد رویہ کی وجہ سے آج معاملات دونوں ملکوں کے درمیان جنگ تک پہنچ چکے ہیں۔ پاکستان کے تحفظات زیادہ تر سلامتی اور سرحدی معاملات سے جڑے ہیں، افغان حکومت کو پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات، باہمی تعاون، اعتماد سازی اور مشترکہ مفادات کے فروغ کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ ورنہ پورے خطے کا امن اور ترقی متاثرہوگی۔

دہشتگردی کے اثرات اور ممکنہ نتائج

افغان سرزمین سے دہشتگردی کے واقعات سے خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع میں عام شہری دہشتگردی کا نشانہ بنے،پاکستان افغانستان کے ساتھ تعلقات توڑنے کا خواہاں نہیں لیکن اگر دہشت گرد گروہ روکے نہ گئے تو پاکستان یکطرفہ اقدامات پر مجبور ہوگا۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی تاریخ بداعتمادی ، وعدہ خلافیوں اور سکیورٹی خدشات سے بھری پڑی ہے۔

عہد شکنی اور عبرت ناک حقیقت

دونوں ممالک کے درمیان متعدد بار مذاکرات اور مفاہمت کے اعلانات ہوئے لیکن عملی طور پر ان کا تسلسل قائم نہ رہ سکا۔ افغانستان کی سرزمین بدستوردہشتگرد گروہوں کی پناہ گاہ بنی رہی جنہوںنے پاکستان کے اندر حملے کئے اور بے شمار قیمتی جانیں ہوئیں۔یہ بات تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ افغان حکومت نے پہلے بھی متعدد بار وعدے کئے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی مگر ان وعدوں پر عملدرآمد کبھی بھی ممکن نہیں ہوسکااور اپنی غلطیوں سے کبھی نہیں سیکھا۔ جب کوئی قوم اپنے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے سے انکار کر دے، تو اس کا حال داؤ پر لگ جاتا ہے اور مستقبل تاریکی میں گم ہو جاتا ہے۔

طالبان حکومت کی دوغلی پالیسی اور انجام

یہ ایک افسوسناک امر ہے کہ عبوری افغان حکومت، جو خود دہشتگردی کے خلاف ایک طویل جنگ کے بعد ابھری تھی، آج انھی عناصر کو پناہ دے رہی ہے جنہوں نے دہائیوں تک اس سرزمین کو خون میں نہلائے رکھا۔طالبان قیادت نے عالمی برادری کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ مگر حالات اور زمینی حقائق ان دعوؤں کی نفی کر رہے ہیں۔فتنہ خوارج ، داعش خراسان اور القاعدہ جیسے دہشتگردگروہ نہ صرف افغانستان میں سرگرم ہیں بلکہ انھیں منظم انداز میں تحفظ دیا جا رہا ہے۔

نتیجہ: افغان حکومت کی احسان فراموشی اور خطرناک روش

استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں افغان سائیڈ کی ہٹ دھرمی ، ضد اور منافقت قطر اور ترکیہ سمیت پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔ افغانستان کی عبوری حکومت نے اپنے عمل اور کردار سے ثابت کیا کہ وہ ناصرف احسان فراموش ہیں بلکہ اسلام کا لبادہ محض لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے پہنا ہوا ہے۔ انہوں نے بے گناہ انسانوں کے قاتلوں فتنہ خوارج کی کھل کر سپورٹ کی اور ان کی حمایت میں پاکستان جیسے محسن کے خلاف کھڑا ہوگیا۔ افغان عبوری حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو پاکستان میں جو آگ انہوں نے لگا رکھی اس کے شعلوں سے افغانستان بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان اور افغانستان پاک افغان مذاکرات پاکستان نے افغان افغان طالبان کی افغان طالبان کے دونوں ملکوں کے افغان مہاجرین میں ہونے والے فتنہ خوارج کے افغان سرزمین پاکستانی وفد ان کی جانب سے برادر اسلامی افغانستان کی افغانستان کے طالبان حکومت افغان حکومت عبوری حکومت پاکستان میں اور پاکستان مذاکرات میں استنبول میں دہشتگردی کے ہے کہ افغان تو پاکستان ان مذاکرات پاکستان کے پاکستان ا بھارتی ا حکومت کی کے مابین اور دہشت تسلیم کی انہوں نے حکومت نے ہٹ دھرمی میں پاک کے خلاف کے ساتھ کرنے کی نہیں ہو نہیں کر واضح ہو کرنے کے کے لیے کے بعد یہ بات تھا کہ رہا ہے

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟