فوج سرحدوں کی حفاظت کرے ،شہروں کی ہم کر لیں گے، آفاق احمد
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
پیپلز پارٹیہر تنقید کو لسانی رنگ دینے کی بجائے علیحدگی پسند سندھیوں کے خلاف کارروائی کرے،چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ
ناانصافیوں کیخلاف آواز کو لسانی رنگ دینا پی پی کا کمال، وفاق کیلئے لمحہ فکریہ ہے، رہائش گاہ پر سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ سے خطاب
مہاجر قومی موومنٹ (پاکستان) کے چیئرمین آفاق احمد نے اپنی رہائش گاہ پر سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان انڈیا گٹھ جوڑ نے سرحدوں پر کشیدگی پیدا کردی ہے لیکن ہمیںاپنی افواج کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ افواج سرحدوں کی حفاظت کریں شہروں کی ہم کرلیں گے۔آفاق احمد نے کہا کہ پی پی کے دورِ حکومت میں علیحدگی پسندوں کا پروان چڑھنا اور ناصرف سندھ بلکہ کراچی میں ملک کے خلاف زہر افشانی کرنا پیپلز پارٹی سمیت وفاق کیلئے لمحہ فکریہ ہے جسکی پیپلز پارٹی اتحادی ہے۔آفاق احمد نے کہا کہ پی پی ہر تنقید کو لسانی رنگ دینے کی بجائے علیحدگی پسندوں کے خلاف سخت کاروائی کرے۔ آفاق احمد نے کہا کہ 27ویں ترمیم میں سندھ کے اربن ایریاز کے مفادات سمیت PFC ایوارڈ کو یقینی بنانے کی آئینی گارنٹی کے بغیر اگر متحدہ نے ترمیم کی حمایت میں ووٹ ڈالا تو اسے اربن ایریاز کے عوام کے مفادات کا سودا تصور کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ا فاق احمد نے نے کہا کہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔