27ویں ترمیم کا مطلب سندھ کی شناخت ختم کرنا ہے، عوامی تحریک
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) عوامی تحریک کے مرکزی رابطہ سیکریٹری لال جروار، حسین سومرو اور سارنگ راجا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم لانے کا مقصد پاکستان کے بانی صوبے سندھ کے تاریخی وجود اور شناخت کو ختم کرنا ہے۔نئے انتظامی یونٹس کے نام پر کراچی اور حیدرآباد کو اسٹیبلشمنٹ کے پالے اور تیار کردہ دہشت گرد گروہ ایم کیو ایم کے حوالے کرنا اور باقی اضلاع کو سرداروں اور جاگیرداروں کے سپرد کرنا اس ترمیم کا اصل مقصد ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ جمہوریت کے نام پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ضیائی، ایوبی اور مشرفی مارشل لا سے بھی بڑھ کر جمہوریت پر حملہ کیا ہے اور آمریت کو قانونی و آئینی تحفظ فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیکا ایکٹ، اور دہشت گردی کے نام پر بغیر ایف آئی آر کسی شخص کو محض شک کی بنیاد پر اٹھانے جیسے کالے قوانین نافذ کیے گئے ہیں۔رہنماؤں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اقتدار کی لالچ میں اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد سے سندھ کے تاریخی وجود اور وسائل پر مہلک حملہ کیا ہے، مگر سندھی عوام پیپلز پارٹی کے اس مجرمانہ قومی جرم کے خلاف پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم اور دیگر سندھ دشمن منصوبوں کے خلاف سندھیانی تحریک کی جانب سے 16 نومبر کو حیدرآباد میں عظیم الشان احتجاجی مارچ کیا جائے گا۔رہنماؤں نے سندھی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے تاریخی وطن، تہذیب، ثقافت، زبان اور وسائل کے تحفظ کے لیے پرامن جمہوری جدوجہد جاری رکھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔