واشنگٹن:

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی حکومت کے کسی بھی عہدیدار کو اس سال جنوبی افریقہ میں ہونے والی جی20 سمٹ میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ٹرمپ نے اس موقع پر دوبارہ یہ دعویٰ کیا کہ جنوبی افریقہ میں سفید فام کسانوں کو قتل اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس سے قبل ٹرمپ نے اس سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اور نائب صدر جے ڈی وینس کو ان کی جگہ اس اجلاس میں شرکت کے لیے بھیجا گیا تھا۔ تاہم ایک باخبر ذرائع نے بتایا کہ اب نائب صدر وینس بھی اس سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے۔

ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ ایک شرمناک بات ہے کہ جی20 کا اجلاس جنوبی افریقہ میں ہو رہا ہے۔

https://truthsocial.

com/@realDonaldTrump/115510666739916664

افریکنرز (جو ڈچ آبادکاروں اور فرانسیسی و جرمن تارکین وطن کے نسل سے تعلق رکھتے ہیں) کو قتل اور ذبح کیا جا رہا ہے، اور ان کی زمینوں اور فارموں کو غیر قانونی طور پر ضبط کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی کوئی امریکی عہدیدار اس اجلاس میں شریک نہیں ہوگا اور میں 2026 میں میامی، فلوریڈا میں جی20 کی میزبانی کا منتظر ہوں

جنوبی افریقا کے وزارت خارجہ نے ٹرمپ کے الزامات کو "افسوسناک" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سمٹ کے کامیاب انعقاد کے لیے پرعزم ہیں۔

وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ افریکنرز کو ایک خاص طور پر سفید فام گروہ کے طور پر بیان کرنا تاریخی طور پر غلط ہے۔ اس کمیونٹی کو ظلم و ستم کا نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ حقائق سے بے بنیاد ہے۔

جنوبی افریقہ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے افریکنرز کے بارے میں کیے گئے الزامات جھوٹے ہیں اور اس کے صدر سیرل رامافوسا نے ٹرمپ کو بتایا کہ ان الزامات کا کوئی حقیقت نہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے طویل عرصے سے جنوبی افریقہ کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اقلیتی سفید فام افریکنر کسانوں کے ساتھ ظلم اور تشدد کی اجازت دے رہی ہے۔

اس دوران امریکی حکومت نے جنوبی افریقہ کے پناہ گزینوں کی تعداد کو محدود کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ زیادہ تر پناہ گزین سفید فام جنوبی افریقی ہوں گے جنہیں اپنے ملک میں امتیاز اور تشدد کا سامنا ہے۔

جنوبی افریقہ کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس الزامات سے حیران ہیں کیونکہ سفید فام افراد کا معیار زندگی ملک کے سیاہ فام باشندوں کے مقابلے میں کافی بہتر ہے اور یہ سب اپارتھائڈ کے خاتمے کے تین دہائیاں بعد بھی برقرار ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس سال کے آغاز میں ایک جی 20 اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا کیونکہ اس اجلاس کے ایجنڈے میں تنوع، شمولیت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے موضوعات شامل تھے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جنوبی افریقہ میں شرکت سفید فام رہا ہے کہا کہ

پڑھیں:

ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغزستان کے شہر ’چولپون آتا‘ میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کی۔

دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس کے باقاعدہ آغاز سے قبل سینیٹر اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ روایتی گروپ فوٹو میں شرکت کی۔

Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 is participating in the SCO Council of Foreign Ministers Meeting in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, today. He joined fellow Foreign Ministers of the SCO Member States for the traditional family photograph… pic.twitter.com/l0EDKploEP

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) July 24, 2026

ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں علاقائی امن و استحکام، سیکیورٹی، دہشتگردی کے خلاف تعاون، اقتصادی روابط، تجارت، علاقائی رابطہ کاری اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اجلاس میں تنظیم کے آئندہ سربراہ اجلاس کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اجلاس کے دوران رکن ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بات چیت متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، اسحاق ڈار کا آسیان فورم سے خطاب

پاکستان کا مؤقف ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم علاقائی تعاون، امن، اقتصادی ترقی اور رابطوں کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے، اور پاکستان تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسحاق ڈار شنگھائی تعاون تنظیم کرغزستان

متعلقہ مضامین

  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
  • تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس