آئرلینڈ کی فٹبال کی اعلیٰ تنظیم فٹبال ایسوسی ایشن آف آئرلینڈ کے ارکان نے بھاری اکثریت سے ووٹ دے کر اپنی بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ وہ یوایفا سے فوری طور پر اسرائیل کو یورپی مقابلوں سے معطل کرنے کا مطالبہ کرے۔

ایف اے آئی کے بیان کے مطابق، یہ قرارداد بوہیمین ایف سی نامی آئرش کلب نے پیش کی، جس کے حق میں 74 ووٹ ڈالے گئے، 7 ارکان نے مخالفت کی جبکہ 2 نے ووٹنگ سے پرہیز کیا۔

یہ بھی پڑھیے: برطانوی پابندی کے باوجود آئرش مصنفہ سیلی رونی کی فلسطین ایکشن کے ساتھ یکجہتی

قرارداد میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسرائیلی فٹبال ایسوسی ایشن نے یوایفا کے قوانین کی 2 شقوں کی خلاف ورزی کی ہے؛ ایک نسل پرستی کے خلاف مؤثر پالیسی پر عملدرآمد میں ناکامی، اور دوسرا اسرائیلی کلبوں کا مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بغیر اجازت میچ کھیلنا۔

یوایفا کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرے سے گریز کیا۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق گزشتہ ماہ یوایفا نے اسرائیل کو یورپی مقابلوں سے معطل کرنے پر غور کیا تھا، لیکن 10 اکتوبر کو امریکہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد یہ بحث مؤخر کر دی گئی۔

دیگر ممالک کی حمایت

آئرش فٹبال ایسوسی ایشن کا یہ اقدام ناروے اور ترکی کی فٹبال تنظیموں کے اُن مطالبات کے بعد سامنے آیا ہے جنہوں نے ستمبر میں اسرائیل کو بین الاقوامی مقابلوں سے معطل کرنے کی اپیل کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: روس پر پابندی لگی تھی تو اسرائیل پر کیوں نہیں؟ قانونی ماہرین کا اسرائیلی فٹ بالز کلبز پر پابندی کا مطالبہ

اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے بھی فیفا اور یوایفا سے اسرائیل کے خلاف کارروائی کرنے کی اپیل کی تھی، ان کے مطابق اقوامِ متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ نے کہا تھا کہ اسرائیل نے غزہ کی جنگ کے دوران نسل کشی کی۔
اسرائیل نے ان الزامات کو جھوٹا اور شرمناک قرار دیا ہے۔

امریکا کے ساتھ ممکنہ تصادم

اگر یوایفا نے اسرائیل پر پابندی عائد کی تو اسے امریکی حکومت کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکا 2026 کے فیفا ورلڈ کپ کا شریک میزبان ہے اور اسرائیل کے خلاف کسی بھی اقدام کی مخالفت کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اسرائیل کے غزہ پر وحشیانہ حملے جاری، فٹبالر سمیت مزید 150 فلسطینی شہید

امریکی ریپبلکن سینیٹر لِنزی گراہم نے ایف اے آئی کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے تمام اداروں کو معاشی نقصان پہنچانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے جو کھیلوں میں اسرائیل کو الگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آئرلینڈ طویل عرصے سے یورپی یونین میں اسرائیل کے غزہ میں اقدامات کا سب سے سخت ناقد رہا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق امریکہ کے دباؤ کے بعد آئرش حکومت کی جانب سے اسرائیلی بستیوں پر ممکنہ پابندیوں کا بل نرم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل پابندی غزہ فٹ بال فلسطین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل پابندی فٹ بال فلسطین فٹبال ایسوسی ایشن اسرائیل کے اسرائیل کو کے مطابق

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور