data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251109-01-6
غزہ‘انقرہ(صباح نیوز+مانیٹر نگ ڈ یسک )فلسطینی مزاحمتی تنظیم کی جانب اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کی حوالگی کا سلسلہ جاری ہے۔حماس نے غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل کرتے ہوئے ایک اور یرغمالی کی لاش اسرائیل کے حوالے کردی۔ اسرائیلی فوج نے بھی لاش ملنے کی تصدیق کردی۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق لاش کو شناخت کے لیے فارنزک انسٹیٹیوٹ منتقل کردیا گیا، لاش کی شناخت ہونے کے بعد گھر والوں سے رابطہ کیا جائے گا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق حماس کے پاس 28 یرغمالیوں کی لاشیں موجود تھیں جن میں سے 23 لاشیں حوالے کی جاچکی ہیں، اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حماس کے پاس اب بھی 5 یرغمالیوں کی لاشیں موجود ہیں۔دوسری جانب حماس کا کہنا ہے دیگر یرغمالیوں کی لاشیں بھی جلد اسرائیل کے حوالے کردی جائیں گی۔علاوہ ازیںاسرائیلی آرمی چیف نے فوج کو غزہ میں تمام سرنگوں کو فوری طور پر تباہ کرنے کا حکم دیدیا۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ نے ایک بیان میں فوج کو حکم دیاکہ جتنا جلدی ہوسکے، غزہ میں موجود تمام سرنگوں پر حملے کرکے اسے تباہ کردیا جائے۔اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے دعویٰ کیا کہ سرنگوں میں ان کے خلاف خفیہ سرگرمیاں چل رہی ہیں۔ادھر صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں، قابض فوج نے شجاعیہ میں ڈرون حملہ کرکے بچے کو شدید زخمی کردیا۔مغربی کنارے میں بھی قابض فوج کی کارروائیاں نہ تھم سکی، فوج نے رہائشی علاقوں میں آپریشن کے دوران گولیاں مار کر 2 فلسطینیون کو شہید کردیا۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی ہمدردی نے بتایا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیوں میں ایک بار پھر تشویشناک حد تک اضافہ ہونے لگا۔ادارے کے مطابق مغربی کنارے میں صرف اکتوبر کے مہینے میں 260 سے زائد حملے کیے جاچکے ہیں۔دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ترکیے نے غزہ میں نسل کشی کے الزامات پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور دیگر37رہنمائوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں، ان افراد میں اسرائیلی وزیر دفاع اور آرمی چیف بھی شامل ہیں اسرائیل نے ترکیے کی جانب سے نیتن یاہو سمیت دیگر حکام کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے اقدام کو اسرائیل نے تشہیری حربہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ ترکیہ نے غزہ میں مبینہ نسل کشی کے الزامات پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور دیگر رہنمائوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ ترکیے نے غزہ میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر اسرائیلی حکام اور رہنمائوں کے خلاف 37وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا تھا کہ اس نے غزہ میں نسل کشی کے الزام میں نیتن یاہو، اسرائیل کاٹز، ایال ضمیر اور ڈیوڈ سار سلاما سمیت 37مشتبہ افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ گزشتہ نومبر میں بھی بین الاقوامی فوجداری عدالت نے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ اسرائیل کو انکلیو پر اپنی جنگ کے لیے عالمی عدالت انصاف میں نسل کشی کے مقدمے کا بھی سامنا ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وارنٹ گرفتاری جاری کیے کے وارنٹ گرفتاری جاری یرغمالیوں کی نسل کشی کے نیتن یاہو کے مطابق کے خلاف کی لاش

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان