سندھ کے ٹریفک پولیس اہلکاروں پر بڑی پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک : ای – چالان سسٹم کے نفاذ کے بعد ٹریفک پولیس اہلکاروں کے تبادلوں کے معاملے پر آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے احکامات جاری کردیے۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے ٹریفک پولیس اہلکاروں کے تبادلوں پر پابندی عائد کردی۔ جاری کردہ حکم کے مطابق کسی بھی اہلکار یا افسر کو ٹریفک پولیس سے ضلعی پولیس میں منتقل نہیں کیا جائے گا۔ اسکے علاوہ یہ پابندی ان اہلکاروں پر بھی لاگو ہوگی جن کے تبادلے کے احکامات پہلے جاری ہو چکے ہیں۔
نائب وزیراعلیٰ کے بیٹےکی ٹیکس چوری کا راز افشا، 21 کروڑ روپے سٹیمپ ڈیوٹی ادا کرنا پڑ گئی
آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد ٹریفک انتظامات میں استحکام اور ای-چالان سسٹم کی مؤثر عملداری کو یقینی بنانا ہے۔
یاد رہے ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا تھا کہ کراچی میں ای چالان سسٹم کے آغاز کے بعد سے ٹریفک اہلکار تبادلے کرانے لگ گئے ہیں اور کام نہ کرنے والے اہلکار ٹریفک پولیس سے ضلعی پولیس میں تبادلے کرا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ٹریفک پولیس
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔