غزہ نسل کشی: ترکیہ نے نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ترکیہ نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسلی کشی پر نیتن یاہو کے ورانٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔
غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق ترکیہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ میں انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کی، اسرائیلی اقدامات ہزاروں شہریوں کے قتل عام اور زخمی ہونے کا باعث بنیں، اسرائیل نے جان بوجھ کر رہائشی علاقے کو تباہ کر کے کھنڈرات میں بدلہ۔
خبر ایجنسی نے بتایا کہ استنبول کی عدالت نے نیتن یاہو کے علاوہ مزید 37 افراد کے گرفتاری وارنٹ بھی نکالے، ترک کورٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو گلوبل صمد فلوٹیلا کے خلاف بھی جنگی جرائم کا مرتکب ہے۔
استنبول کے پروسیکیوٹر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ افراد نے انسانیت کے خلاف جرائم کیے ہیں اور غزہ میں نسل کشی کے مرتکب ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی فوج نے اکتوبر 2023 سے غزہ میں بے گناہ شہریوں اور انفرا سٹرکچر پر منظم بم باری کی اور اس دوران 6 سالہ ہند رجب سمیت بچوں کو شہید کیا گیا اور طبی مراکز پر بھی بمباری کی۔
ترک پروسیکیوٹر نے حوالہ دیا ہے کہ اسرائیل نے گلوبل صمود فلوٹیلا میں جارحیت کی جو غزہ کی پٹی تک امداد پہنچانے کا سب سے بڑا مشن تھا۔
غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے سرفہرست ممالک میں ترکیہ شامل ہے اور یہاں تک غزہ جنگ کی وجہ سے اسرائیل سے اپنے سفارتی تعلقات اور تجارت کو معطل کردیا ہے۔
استنبول کے پروسیکیوٹر کی جانب سے نیتن یاہو اور دیگر اسرائیلی عہدیداروں کے وارنٹ گرفتاری ایک ایسے وقت میں جاری کیے گئے جب عالمی عدالت کی جانب سے نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلینٹ پر جنگی جرائم کی پاداش پر وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا ایک سال مکمل ہوگیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہے کہ اسرائیل نیتن یاہو کے خلاف
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔