ترکیے نے غزہ میں نسل کشی پر نیتن یاہو سمیت اسرائیلی عہدیداروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
ISTANBUL:
ترکیے نے غزہ میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب پر ینجمن نیتن یاہو اور وزیردفاع سمیت اسرائیل کے 37 عہدیداروں کے خلاف وارنٹ گرفتاری کر کردیے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق استنبول کے چیف پروسیکیوٹر کے دفتر سے اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو، وزیردفاع اسرائیل کاٹز اور نیشنل سیکیورٹی وزیر ایٹمر بین گوویر سمیت 37 عہدیداروں کے وارنٹ ضمانت جاری کردیے گئے ہیں۔
استنبول کے پروسیکیوٹر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ افراد نے انسانیت کے خلاف جرائم کیے ہیں اور غزہ میں نسل کشی کے مرتکب ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی فوج نے اکتوبر 2023 سے غزہ میں بے گناہ شہریوں اور انفرا اسٹرکچر پر منظم بم باری کی اور اس دوران 6 سالہ ہند رجب سمیت بچوں کو شہید کیا گیا اور طبی مراکز پر بھی بمباری کی۔
ترک پروسیکیوٹر نے حوالہ دیا ہے کہ اسرائیل نے گلوبل صمود فلوٹیلا میں جارحیت کی، جو غزہ کی پٹی تک امداد پہنچانے کا سب سے بڑا مشن تھا۔
غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے سرفہرست ممالک میں ترکیہ شامل ہے اور یہاں تک غزہ جنگ کی وجہ سے اسرائیل سے اپنے سفارتی تعلقات اور تجارت معطل کردیا ہے۔
استنبول کے پروسیکیوٹر کی جانب سے نیتن یاہو اور دیگر اسرائیلی عہدیداروں کے وارنٹ گرفتاری ایک ایسے وقت میں جاری کیے گئے جب عالمی عدالت کی جانب سے نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلینٹ پر جنگی جرائم کی پاداش پر وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا ایک سال مکمل ہوگیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وارنٹ گرفتاری عہدیداروں کے نیتن یاہو کے خلاف
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔