رہبر انقلاب یمن نے خبردار کیا ہے کہ دشمن ایران-اسرائیل تنازعے کو ایسے انداز میں پیش کرنیکی کوشش میں ہے کہ گویا اس ماجرے میں عربوں کا کوئی کردار ہی نہیں! اسلام ٹائمز۔ لبنان میں منعقدہ 34ویں عرب نیشنل کانفرنس کے ساتھ اپنے آنلائن خطاب میں یمنی مزاحمتی تحریک انصار اللہ کے سربراہ سید عبدالملک بن بدرالدین الحوثی نے تاکید کی ہے کہ اسرائیل، امریکہ کے تعاون سے، علاقائی ممالک کی سرزمین پر آزادانہ انداز میں اپنی غیر قانونی نقل و حرکت کی مساوات کو مسلط کرنے کی کوشش میں ہے درحالیکہ وہ ہمیشہ حق کے حامل مظلوم فریقوں کو ہی مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ سربراہ انصار اللہ یمن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 2 سالوں کے دوران دشمن نے لبنان کی حفاظت کرنے اور غزہ پر ناجائز قبضے کو روکنے والے "ہتھیاروں" کو ڈلوانے کی سرتوڑ کوشش کر دیکھی ہے۔

سید عبدالمالک بن بدر الدین الحوثی نے تاکید کی کہ دشمن، عربوں کی حمایت پر مبنی ایران کے اہم کردار کو مسخ کر دینے کے درپے ہے، گویا جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف "ایران اور اسرائیل کے درمیان ہی ایک تنازعہ" ہے اور اس میں عربوں کا کوئی کردار نہیں! انہوں نے کہا کہ ایران-اسرائیل تنازعے کو عربوں کی شمولیت کے بغیر پیش کرنا انتہائی سطحی اور جھوٹی کوشش ہے کہ جو واضح حقائق کو نظر انداز کرتی ہے۔

رہبر انقلاب یمن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا اعلان کردہ ہدف؛ "گریٹر اسرائیل" نامی مذموم منصوبے کو عملی جامہ پہنانا ہے تاہم غزہ کی حمایت پر مبنی مزاحمتی محاذوں نے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سید عبدالملک الحوثی نے کہا کہ حزب اللہ لبنان اپنے استحکام کے ساتھ ساتھ اپنی موثر شرکت اور عظیم قربانیوں کے ہمراہ حمایتی محاذ کی صف میں سب سے آگے ہے۔

سربراہ انصار اللہ یمن نے فلسطینی عوام کی حمایت پر مبنی یمنی افواج کے مزاحمتی کردار کا بھی ذکر کیا اور تاکید کرتے ہوئے کہا کہ یمنی فوج نے گذشتہ 2 سالوں کے دوران غزہ کی حمایت میں مجموعی طور پر 1 ہزار 830 آپریشن انجام دیئے ہیں جن میں بیلسٹک و کروز میزائلوں سمیت ڈرون طیاروں اور جنگی کشتیوں کے ہمراہ آپریشن بھی شامل ہیں۔ سید عبدالملک بن بدر الدین الحوثی نے کہا کہ یمنی فوج نے اپنی بحری کارروائیوں کے دوران دشمن کے 228 بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جس کی وجہ سے مقبوضہ فلسطین کے جنوبی علاقے میں واقع قابض اسرائیلی رژیم کی ایلات نامی بندرگاہ گذشتہ 2 سالوں سے مکمل طور پر بند ہو چکی ہے اور اسے بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

سربراہ انصار اللہ یمن تاکید کی کہ امریکی جارحیت کے مقابلے میں یمنی فوج نے نہ صرف 22 ایم کیو 9 (MQ-9) امریکی ڈرون طیارے مار گرائے ہیں بلکہ اپنی بحری کارروائیوں میں 5 طیارہ بردار امریکی بحری بیڑوں اور ان کے ساتھ ہمراہ موجود کئی ایک جنگی کشتیوں کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے جس کے باعث دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہونے پر مجبور ہوا۔ اس حوالے سے اپنی گفتگو کے آخر میں رہبر انقلاب اسلامی یمن نے تاکید کرتے ہوئے مزید کہا کہ گذشتہ 2 سالوں میں یمن کے خلاف امریکی و اسرائیلی حملوں کی تعداد تقریباً 3 ہزار ہو چکی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گذشتہ 2 سالوں انصار اللہ الحوثی نے کی حمایت کہا کہ

پڑھیں:

کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد

بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا

ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔

سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی

ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان

متعلقہ مضامین

  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد