دشمن عربوں کیلئے ایرانی حمایت میں تحریف کی کوشش کر رہا ہے، سید عبد الملک الحوثی
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
رہبر انقلاب یمن نے خبردار کیا ہے کہ دشمن ایران-اسرائیل تنازعے کو ایسے انداز میں پیش کرنیکی کوشش میں ہے کہ گویا اس ماجرے میں عربوں کا کوئی کردار ہی نہیں! اسلام ٹائمز۔ لبنان میں منعقدہ 34ویں عرب نیشنل کانفرنس کے ساتھ اپنے آنلائن خطاب میں یمنی مزاحمتی تحریک انصار اللہ کے سربراہ سید عبدالملک بن بدرالدین الحوثی نے تاکید کی ہے کہ اسرائیل، امریکہ کے تعاون سے، علاقائی ممالک کی سرزمین پر آزادانہ انداز میں اپنی غیر قانونی نقل و حرکت کی مساوات کو مسلط کرنے کی کوشش میں ہے درحالیکہ وہ ہمیشہ حق کے حامل مظلوم فریقوں کو ہی مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ سربراہ انصار اللہ یمن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 2 سالوں کے دوران دشمن نے لبنان کی حفاظت کرنے اور غزہ پر ناجائز قبضے کو روکنے والے "ہتھیاروں" کو ڈلوانے کی سرتوڑ کوشش کر دیکھی ہے۔
سید عبدالمالک بن بدر الدین الحوثی نے تاکید کی کہ دشمن، عربوں کی حمایت پر مبنی ایران کے اہم کردار کو مسخ کر دینے کے درپے ہے، گویا جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف "ایران اور اسرائیل کے درمیان ہی ایک تنازعہ" ہے اور اس میں عربوں کا کوئی کردار نہیں! انہوں نے کہا کہ ایران-اسرائیل تنازعے کو عربوں کی شمولیت کے بغیر پیش کرنا انتہائی سطحی اور جھوٹی کوشش ہے کہ جو واضح حقائق کو نظر انداز کرتی ہے۔
رہبر انقلاب یمن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا اعلان کردہ ہدف؛ "گریٹر اسرائیل" نامی مذموم منصوبے کو عملی جامہ پہنانا ہے تاہم غزہ کی حمایت پر مبنی مزاحمتی محاذوں نے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سید عبدالملک الحوثی نے کہا کہ حزب اللہ لبنان اپنے استحکام کے ساتھ ساتھ اپنی موثر شرکت اور عظیم قربانیوں کے ہمراہ حمایتی محاذ کی صف میں سب سے آگے ہے۔
سربراہ انصار اللہ یمن نے فلسطینی عوام کی حمایت پر مبنی یمنی افواج کے مزاحمتی کردار کا بھی ذکر کیا اور تاکید کرتے ہوئے کہا کہ یمنی فوج نے گذشتہ 2 سالوں کے دوران غزہ کی حمایت میں مجموعی طور پر 1 ہزار 830 آپریشن انجام دیئے ہیں جن میں بیلسٹک و کروز میزائلوں سمیت ڈرون طیاروں اور جنگی کشتیوں کے ہمراہ آپریشن بھی شامل ہیں۔ سید عبدالملک بن بدر الدین الحوثی نے کہا کہ یمنی فوج نے اپنی بحری کارروائیوں کے دوران دشمن کے 228 بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جس کی وجہ سے مقبوضہ فلسطین کے جنوبی علاقے میں واقع قابض اسرائیلی رژیم کی ایلات نامی بندرگاہ گذشتہ 2 سالوں سے مکمل طور پر بند ہو چکی ہے اور اسے بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
سربراہ انصار اللہ یمن تاکید کی کہ امریکی جارحیت کے مقابلے میں یمنی فوج نے نہ صرف 22 ایم کیو 9 (MQ-9) امریکی ڈرون طیارے مار گرائے ہیں بلکہ اپنی بحری کارروائیوں میں 5 طیارہ بردار امریکی بحری بیڑوں اور ان کے ساتھ ہمراہ موجود کئی ایک جنگی کشتیوں کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے جس کے باعث دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہونے پر مجبور ہوا۔ اس حوالے سے اپنی گفتگو کے آخر میں رہبر انقلاب اسلامی یمن نے تاکید کرتے ہوئے مزید کہا کہ گذشتہ 2 سالوں میں یمن کے خلاف امریکی و اسرائیلی حملوں کی تعداد تقریباً 3 ہزار ہو چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گذشتہ 2 سالوں انصار اللہ الحوثی نے کی حمایت کہا کہ
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔