4 لاکھ روپے ماہانہ ناکافی، سابقہ اہلیہ بھارتی کھلاڑی محمد شامی سے مزید نان نفقہ لینے عدالت پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
بھارتی فاسٹ بولر محمد شامی کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے یہ نوٹس شامی کی سابقہ اہلیہ حسین جہاں کی درخواست پر جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے ماہانہ نان نفقے میں اضافے کی درخواست کی ہے۔
کلکتہ ہائی کورٹ نے بھارتی فاسٹ بولر محمد شامی کو اپنی سابقہ اہلیہ کو ماہانہ 4 لاکھ بھارتی روپے نان نفقے کی مد میں ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ کورٹ نے حسین جہاں کے لیے ماہانہ 1.
یہ بھی پڑھیں: بھارتی کرکٹر محمد شامی کی سابق اہلیہ پر قاتلانہ حملے کا الزام، ویڈیو وائرل
سپریم کورٹ نے معاملے پر ابتدائی سماعت کے دوران مغربی بنگال حکومت اور محمد شامی دونوں کو 4 ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے بعد کیس کی مزید سماعت ہوگی۔
یہ مقدمہ شامی اور حسین جہاں کے درمیان جاری طویل قانونی تنازع کا تسلسل ہے، جو 2018 سے جاری ہے۔ اس دوران حسن جہاں نے شامی پر گھریلو تشدد، جہیز کے مطالبے اور دیگر الزامات عائد کیے تھے، جن کی بنیاد پر ان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: محمد شامی کو قتل کی دھمکی موصول، بھارتی کھلاڑی سے کتنا بھتہ مانگا گیا؟
ایک سابقہ انٹرویو میں جب محمد شامی سے ان کی شادی اور تنازعات سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’میں ماضی پر پچھتاتا نہیں۔ جو ہو گیا، سو ہو گیا۔ میں کسی کو الزام نہیں دیتا۔ میرا فوکس صرف کرکٹ پر ہے، تنازعات پر نہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں کی ذاتی زندگی کو غیر ضروری طور پر زیرِ بحث نہیں لانا چاہیے۔ ’یہ آپ کا کام ہے کہ حقائق تلاش کریں، مگر ہمیں بلاوجہ نشانہ نہ بنائیں۔ میں کرکٹ پر توجہ دیتا ہوں، تنازعات پر نہیں‘۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی کرکٹ ٹیم بھارتی کرکٹر محمد شامی محمد شامی طلاق
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی کرکٹ ٹیم بھارتی کرکٹر محمد شامی طلاق حسین جہاں کے لیے
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔