چیئرمین پی سی بی محسن نقوی آئی سی سی کے اہم اجلاس میں شرکت کے لیے آج دبئی جائیں گے
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی آج دبئی کے لیے روانہ ہوں گے، جہاں وہ آئی سی سی بورڈ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ اجلاس خاصا گرم اور کشیدہ ماحول میں متوقع ہے کیونکہ بھارت کی جانب سے متعدد اعتراضات اٹھائے جانے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بی سی سی آئی محسن نقوی کے دو عہدوں بطور پی سی بی چیئرمین اور وفاقی وزیر داخلہ کو آئی سی سی کے گورننس اصولوں کی خلاف ورزی قرار دینے کی تیاری کر رہا ہے۔
بھارتی کرکٹ بورڈ نے مبینہ طور پر تحریری شکایات کی فہرست مرتب کی ہے جس میں محسن نقوی کے ایشیا کپ کے دوران فیصلوں اور ان سے جڑے چند سیاسی نوعیت کے واقعات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تنازع کی اصل جڑ ایشیا کپ فائنل کا واقعہ ہے جب میچ کے بعد ٹرافی تقریب کے دوران بھارتی کپتان سوریا کمار یادو نے محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
بھارتی کپتان اور بی سی سی آئی نے ٹرافی تقریب میں ایشین کرکٹ کونسل کے دیگر ممبران سے ٹرافی وصول کرنے کا مطالبہ کیا تھا جسے بطور صدر محسن نقوی نے انکار کر دیا تھا۔
ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی نے تقریب میں دیر تک بھارتی کپتان کے اسٹیج پر آنے کا انتظار کیا مگر وہ نہیں آئے جس کے بعد محسن نقوی اسٹیڈیم سے روانہ ہو گئے اور ٹرافی کو ایشین کرکٹ کونسل کے دفتر پہنچا دیا گیا۔
ادھر پی سی بی کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ محسن نقوی اس تمام دباؤ کے باوجود پُراعتماد اور پُرعزم ہیں۔ ان کے مطابق نقوی نے بطور ایشین کرکٹ کونسل صدر اپنی قانونی اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے تمام فیصلے کیے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ محسن نقوی نے بین الاقوامی ماہرین قانون سے تفصیلی مشاورت مکمل کر لی ہے تاکہ وہ آئی سی سی اجلاس میں پاکستان کا مؤقف مدلل انداز میں پیش کر سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایشین کرکٹ کونسل محسن نقوی پی سی بی نقوی نے
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔