کم عمر افراد کے لیے ٹریڈنگ اکاؤنٹ کھولنے کی گائیڈ لائنز جاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ اور سینٹرل ڈپازٹری کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ کے ساتھ مل کر 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے ٹریڈنگ اکاؤنٹ کھولنے کی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔
یہ اقدام سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی رہنمائی میں تیار کیا گیا ہے۔
ایس سی سی پی کے مطابق یہ اقدام سرمایہ کاروں میں آگاہی اور مالی شمولیت کو فروغ دینے کی ایک اہم پیش رفت ہے۔
اس کا مقصد پاکستان کی نئی نسل میں بچت اور سرمایہ کاری کا رجحان پیدا کرنا، کم عمر افراد کو کیپٹل مار کیٹ میں جلد شامل کرنا، مالی نظم و ضبط سکھانا اور باضابطہ سرمایہ کاری کے مواقع تک رسائی دینا ہے۔
ان گائیڈ لائنز میں قدرتی یا عدالت کی طرف سے مقرر کردہ سرپرستوں کے ذریعے کیپٹل مارکیٹس میں کم عمر افراد کے اکاؤنٹس کھولنے اور چلانے کا واضح طریقہ، طریقہ کار اور شرائط و ضوابط بتائے گئے ہیں۔ یہ نظام آسان رسائی کے ساتھ ساتھ قواعد کی پابندی اور کام کے تحفظ کو بھی یقینی بناتا ہے۔
مزید یہ کہ ان گائیڈ لائنز میں 18 سال کی عمر پوری ہونے پر اکاؤنٹ کو عام ٹریڈنگ اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا طریقہ بھی بیان کیا گیا ہے، جس میں سرمایہ کی منتقلی پر لاگو ٹیکس کے اثرات بھی شامل ہیں۔
یہ گائیڈ لائنز سرمایہ کاروں کی شمولیت بڑھانے اور مالی طور پر باخبر نئی نسل تیار کرنے کی ایک اہم پیش رفت ہیں۔ تفصیلی ہدایات پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل کم عمر افراد گائیڈ لائنز
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔