کم عمر افراد کے لیے کیپٹل مارکیٹس میں ٹریڈنگ اکاؤنٹ کھولنے کی گائیڈلائینزجاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(بزنس رپورٹر) پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) نے نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (NCCPL) اور سنٹرل ڈپازٹری کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (CDC) کے ساتھ مل کر 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے ٹریڈنگ اکاؤنٹ کھولنے کی گائیڈلائینز جاری کی ہیں۔ یہ اقدام سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی رہنمائی میں تیار کیا گیا ہے۔یہ اقدام سرمایہ کاروں میں آگاہی اور مالی شمولیت کو فروغ دینے کی ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کی نئی نسل میں بچت اور سرمایہ کاری کا رجحان پیدا کرنا، کم عمر افراد کو کیپٹل مار کیٹ میں جلد شامل کرنا، مالی نظم و ضبط سکھانا اور باضابطہ سرمایہ کاری کے مواقع تک رسائی دینا ہے۔ان گائیڈلائینز میں قدرتی یا عدالت کی طرف سے مقرر کردہ سرپرستوں کے ذریعے کیپٹل مارکیٹس میںکم عمر افراد کے اکاؤنٹس کھولنے اور چلانے کا واضح طریقہ، طریقہ کار، اور شرائط و ضوابط بتائے گئے ہیں۔ یہ نظام آسان رسائی کے ساتھ ساتھ قواعد کی پابندی اور کام کے تحفظ کو بھی یقینی بناتا ہے۔ مزید یہ کہ ان گائیڈلائینز میں 18 سال کی عمر پوری ہونے پر اکاؤنٹ کو عام ٹریڈنگ اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا طریقہ بھی بیان کیا گیا ہے، جس میں سرمایہ کی منتقلی پر لاگو ٹیکس کے اثرات بھی شامل ہیں۔یہ گائیڈلائینز سرمایہ کاروں کی شمولیت بڑھانے اور مالی طور پر باخبر نئی نسل تیار کرنے کی ایک اہم پیش رفت ہیں۔تفصیلی ہدایات پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔