ڈھائی ارب کرپشن کا کیس: اسٹینوگرافر کی پلی بارگین درخواست منظور
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
علامتی تصویر۔
راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں ڈھائی ارب روپے کی مبینہ کرپشن کیس کی احتساب عدالت راولپنڈی میں سماعت ہوئی۔ اس موقع پر ادارے کے فنانس ڈپارٹمنٹ کے اسٹینوگرافر جہانگیر احمد کی پلی بارگین درخواست منظور کی گئی۔
عدالت نے قومی رقوم کی واپسی پر ملزم کی رہائی کا حکم دے دیا اور الزام قبول کرنے پر ملزم 10 سال کیلئے کسی بھی سرکاری عہدے کیلیے نااہل قرار دے دیا گیا۔
نیب آرڈیننس کے تحت ملزم پر 10 سال کیلئے مالیاتی اداروں اور بینکوں سے لین دین پر پابندی بھی عائد کی گئی۔ نیب نے ملزم جہانگیر احمد کو رواں سال 24 اکتوبر کو گرفتار کیا تھا۔
ملزم پر سرکاری اکاؤنٹ سے ایک کروڑ 35 لاکھ روپے اپنی اہلیہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا الزام تھا۔ پلی بارگین درخواست منظور ہونے کے بعد ملزم نے 45 لاکھ روپے کی پہلی قسط ادا کر دی۔
آر ڈی اے اکاؤنٹس سے ڈھائی ارب روپے خردبرد ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔ میگا کرپشن اسکینڈل میں نیب کو 27 افسران کے ملوث ہونے کے شواہد ملے تھے۔
میگا کرپشن کی تحقیقات کے آغاز پر ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس محمد جنید تاج نے مبینہ طور پر خودکشی کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔