نیو ماڈل سڑک شاعر اعجاز رحمانی سے منسوب کی جارہی ہے‘ محمد یوسف
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) نیو کراچی ٹاؤن کی تعمیر و ترقی میں سڑکوں کی تعمیر اہم سنگِ میل قرار۔ چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف کی ذاتی دلچسپی سے پاور ہاؤس چورنگی تا نیو کراچی 03 نمبر مچھلی مارکیٹ ماڈل سڑک کی تعمیر مکمل ہوئی۔ نیو ماڈل سڑک شاعر اعجاز رحمانی سے منسوب کی جارہی ہے۔ ماڈل شاہراہ شاعر اعجاز رحمانی پر لائٹس و گرین بیلٹ کی تعمیرکا کام مکمل کیا جاچکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین محمد یوسف نے از سر نو تعمیر ہونے والی شاہراہ شاعر اعجاز رحمانی کی تعمیر کے کام کا معائنہ کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ٹاؤن وائس چیئرمین شعیب بن ظہیر ،یوسی چیئرمیز و وائس چیئرمیز‘ ایکس ای این B & R اشفاق حسین، افسر بی اینڈ آر فیصل صغیر‘ انجینئر صفدر حسین‘ انجینئر ساجد صدیقی‘ ایڈیشنل ڈائریکٹر سینی ٹیشن مشتاق خان‘ ڈپٹی ڈائریکٹر باغات آفتاب احمد و دیگر ٹاؤن افسران بھی موجود تھے۔ چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف کی خصوصی دلچسپی اور براہِ راست نگرانی میں پاور ہاؤس چورنگی سے مچھلی مارکیٹ نمبر 3 تک سڑک کی تعمیرکا کام تیزی سے جاری ہے۔ ٹاؤن چیئرمین محمد یوسف گزشتہ رات خود موقع پر موجود رہے اور رات گئے تک مشینری و عملے کے ساتھ تعمیراتی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے رہے۔ اس موقع پر چیئرمین محمد یوسف نے کہا کہ یہ سڑک نیو کراچی کی مرکزی اور مصروف ترین شاہراہوں میں سے ایک ہے جہاں روزانہ ہزاروں گاڑیاں اور شہری گزرتے ہیں مگر اس کی خستہ حالت نے شہریوں کو شدید اذیت میں مبتلا کر رکھا تھا۔ عوامی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ہم نے یہ منصوبہ اپنے ٹاؤن کے محدود فنڈز سے شروع کیا، کیونکہ خدمت کے جذبے کے سامنے رکاوٹیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ یہ سڑک کے ایم سی کی تحویل میں تھی مگر شہریوں کی سہولت کے لیے ہم نے یہ ذمہ داری خود اٹھائی۔ عوامی خدمت سیاست نہیں عبادت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر چیئرمین اپنے دفتر سے نکل کر میدان میں آجائے تو تبدیلی ممکن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ن محمد یوسف نیو کراچی کی تعمیر
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔