سینی ٹیشن ڈائریکٹوریٹ کی نجکاری پرملازمین کے حقوق کا دفاع کرینگے،چوہدری محمد یسین
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
سینی ٹیشن ڈائریکٹوریٹ کی نجکاری پرملازمین کے حقوق کا دفاع کرینگے،چوہدری محمد یسین WhatsAppFacebookTwitter 0 26 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )ایف ای ایس ایشیا پیسیفک کے ڈیسک آفیسر برادر بینی ڈکٹ، ایف ای ایس پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر برادر فلیکس، پروگرام ڈائریکٹر عبداللہ دایو نے پاکستان ورکرز فیڈریشن کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انھوں نے سی ڈی اے مزدور یونین سی بی اے کے جنرل سیکرٹری اور قائد مزدور چوہدری محمد یسین، پاکستان ورکرز فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری اسد محمود، چوہدری اسد الرحمن عاصی، واجد گجر، سلیم بھٹی، محمد سرفراز ملک، چوہدری بلال، ارشاد بی بی، چوہدری اظہر لطیف، زاہد کاٹھیا، شاہد ستی، گوہرالہی، حاجی جنید، فاروق نور سمیت عہدیداران سے خصوسی ملاقات کی۔
اس موقع پر قائد مزدور چوہدری محمد یسین نے وفد کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ورکرز فیڈریشن اور ایف ای ایس کے دیرینہ تعلقات ہیں اور دونوں تنظیمیں پاکستان کے مزدوروں کی فلاح و بہبود اور بہتری کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں جس کے مزدوروں پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایف ای ایس نے پاکستان کی مزدور تحریک میں نوجوانوں اور خواتین کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے جس کی وجہ سے آج پاکستان ورکرز فیڈریشن کی مرکزی قیادت میں ساٹھ فیصد نوجوان اور خواتین شامل ہیں۔ پاکستان میں مزدوروں کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہاہے اور قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے مسائل روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ اداروں کی نجکاری اور آوٹ سورسنگ سے ملازمین بے روزگار ہور ہے ہیں اور مزدور تحریک کمزور ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حال ہی میں سی ڈی اے انتظامیہ نے سینی ٹیشن ڈائریکٹوریٹ کی نجکاری کے لیے ٹینڈر جاری کیے ہیں، جس پر سینی ٹیشن ملازمین سخت بے چینی کا شکار ہیں اور اس آوٹ سورسنگ سے 1700 خاندان متاثر ہوں گے۔ سی ڈی اے مزدور یونین مزدوروں کی نمائندہ تنظیم ہے، اور ملازمین کے حقوق کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔
سی ڈی اے انتظامیہ مسلسل لبیر قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور ملازمین کے حوالے سے فیصلوں پر سی بی اے کو اعتماد میں نہیں لے رہی، لیکن ہم انشا اللہ ملازمین کے حقوق کا تحفظ ہر پلیٹ فارم پر کریں گے اور کسی صورت سینی ٹینی کی نجکاری نہیں ہونے دیں گے۔ اس سلسلے میں ہم بین الاقوامی تنظیموں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے سی ڈی اے ملازمین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ انھوں نے ایف ای ایس کے 100 سال مکمل ہونے پر کنٹری ڈائریکٹر کو مبارکباد پیش کی۔ اور یقین دلایا کہ انشا اللہ پاکستان ورکرز فیڈریشن اور ایف ای ایس ملکر مزدوروں کی خدمت جاری رکھیں گے۔ ایف ای ایس کے کنٹری ڈائریکٹر برادر فلیکس اور ایشیا پیسیفک کے ڈیسک آفیسر برادر بینی ڈکٹ نے پاکستان ورکرز فیڈریشن اور سی ڈی اے مزدور یونین کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہمیں بڑی خوشی محسوس ہوئی ہے کہ پاکستان ورکرز فیڈریشن میں نوجوان قیادت کاجمہوری اور قانونی طریقے سے انتخاب ہوا ہے۔ ایف ای ایس نے ہمیشہ مزدورں کی بہتری اور ان کے حالات کار بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ پاکستان میں لیبر اکیڈمی سمیت بہت سارے ایسے پراجیکٹ ہیں جس سے مزدوروں کو براہ راست فائدہ پہنچا ہے۔ جس ک مقصد نوجوان قیادت کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کو جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم و تربیت دی جائے۔ مستقبل میں بھی ایف ای ایس پاکستان ورکرز فیڈریشن کے ساتھ مل کر جدوجہد جاری رکھے گی، انھوں نے سی ڈی اے سینی ٹیشن کی نجکاری پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور قیادت کو یقین دلایا کہ ایف ای ایس بھرپور تعاون کرے گی۔ آخر میں سی ڈی اے مزدور یونین کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد یسین اور پاکستان ورکرز فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری اسد محمود نے مہمانوں کو اعزازی شیلڈز پیش کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین۔امریکہ اقتصادی تعلقات کی اصل نوعیت مشترکہ کامیابی پر مبنی ہے، چینی نائب وزیر اعظم شہید صحافی ارشد شریف کی والدہ انتقال کر گئیں پاک افغان مسئلہ حل کرنا مشکل نہیں ہے، فی الحال کچھ نہیں کررہا، ڈونلڈ ٹرمپ آزاد کشمیر میں حکومت سازی کیلئے پیپلزپارٹی متحرک، صدر زرداری کا وزیراعظم سے رابطہ چوہدری سالک حسین کے ایک سالہ پرانے کلپ کو توڑ موڑ کر پیش کرنا انتہائی شرمناک عمل ہے ۔ مصطفیٰ ملک ن لیگ کو وزیراعظم آزادکشمیر انوار الحق کی حمایت سے بدنامی کے سواکچھ حاصل نہیں ہوا، طلال چوہدری آزاد کشمیر کا نیا وزیراعظم کون ہو گا؟Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان ورکرز فیڈریشن کے سی ڈی اے مزدور یونین ملازمین کے حقوق کا چوہدری محمد یسین کے جنرل سیکرٹری ایف ای ایس کی نجکاری سینی ٹیشن انھوں نے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔