پی ٹی آئی پرپابندی کا فیصلہ سیاسی نہیں ہو سکتا، عطا اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات عطاللہ تارڑ نے سماء نیوز کے پروگرام ’’ ریڈ لائن‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی ایک شرپسند جماعت ہے، پی ٹی آئی نے کہا ٹی ٹی پی سے بات ہو سکتی ہے، تحریک انصاف دہشتگردی کے حق میں ہے، 9مئی جیسے حملے آج تک دشمن نے بھی نہیں کیے، پی ٹی آئی نےلبادہ سیاست کا اوڑھا ہوا ہے،کام دہشتگردوں والے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق عطاللہ تارڑ کا کہناتھا کہ ہم نے پی ٹی آئی کو بات چیت کا موقع دیا، پی ٹی آئی پرپابندی کافیصلہ سیاسی نہیں ہو سکتا،قانونی جواز پر ہوگا، دیکھتے ہیں تحریک انصاف پر پابندی کا فیصلہ کب ہوتا ہے، پنجاب اسمبلی نے پی ٹی آئی پرپابندی کی قرارداد منظور کر کے درست کیا، کوئی سیاسی جماعت اور لیڈر پاکستان سے بڑا نہیں، سیاستدان اختلاف رائے رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کبھی فوج کے ادارے کو اس طرح ٹارگٹ نہیں کیا گیا جس طرح پی ٹی آئی کر رہی ہے، آج وزیراعظم نے کہا دفاعی ادارے کو برا بھلا کہیں ایسے پاکستان نہیں چل سکتا، پی ٹی آئی ان کا مذاق اُڑاتی ہے جو شدید سردی میں سیاچن میں کھڑے ہیں، ان کے خلاف باتیں کی جارہی ہیں جو اپنی جانیں دیتے ہیں، کل پی ٹی آئی کارکنان واٹر کینن سے فرار ہوگئے، کل واٹر کینن آیا تو پی ٹی آئی کا ایک ایم این اے مین ہول میں گرا،ٹانگ فریکچر ہو گئی۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ جو خودکش بمباروں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، تحریک انصاف پر پابندی کا ماحول اور جواز پیدا ہو رہا ہے، پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ قانونی جواز کے مطابق ہو گا، بانی پی ٹی آئی190ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں جیل میں ہیں، کاش پی ٹی آئی کہتی کےپی پولیو فری ہوگیا،سی ٹی ڈی فعال ہو گئی، بیانیے کا جواز قانونی جواز سے بھی جڑا ہوتا ہے، پی ٹی آئی کی خلاف ورزیاں قوم کو بتاتے رہیں گے۔
ان کا کہناتھا کہ پی ٹی آئی کا بیانیہ فوج اورملکی دفاع کے خلاف ہے، بھارتی چینلز پر جانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ افسوسناک ہے کہ اب انہیں بیانیے کیلئے بھارتی چینلز پر بیٹھنا پڑ رہا ہے، ہم پی ٹی آئی کو بےنقاب کرتے رہیں گے، پی ٹی آئی میں اب کچھ کرنے کا دم نہیں رہا، پی ٹی آئی کارکنان اڈیالہ جیل کے پہلے ناکے پر بھی نہیں پہنچ سکے، جو فوج کو للکارتے تھے وہ واٹرکینن سے ڈر گئے، انتظامیہ اور وسائل کے باوجود پشاور جلسےمیں گراؤنڈ خالی تھا، لوگ فوج کےخلاف بیانیے کو مسترد کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔