اسلام آباد(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات عطاللہ تارڑ نے سماء نیوز کے پروگرام ’’ ریڈ لائن‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی ایک شرپسند جماعت ہے، پی ٹی آئی نے کہا ٹی ٹی پی سے بات ہو سکتی ہے، تحریک انصاف دہشتگردی کے حق میں ہے، 9مئی جیسے حملے آج تک دشمن نے بھی نہیں کیے، پی ٹی آئی نےلبادہ سیاست کا اوڑھا ہوا ہے،کام دہشتگردوں والے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عطاللہ تارڑ کا کہناتھا کہ ہم نے پی ٹی آئی کو بات چیت کا موقع دیا، پی ٹی آئی پرپابندی کافیصلہ سیاسی نہیں ہو سکتا،قانونی جواز پر ہوگا، دیکھتے ہیں تحریک انصاف پر پابندی کا فیصلہ کب ہوتا ہے، پنجاب اسمبلی نے پی ٹی آئی پرپابندی کی قرارداد منظور کر کے درست کیا، کوئی سیاسی جماعت اور لیڈر پاکستان سے بڑا نہیں، سیاستدان اختلاف رائے رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کبھی فوج کے ادارے کو اس طرح ٹارگٹ نہیں کیا گیا جس طرح پی ٹی آئی کر رہی ہے، آج وزیراعظم نے کہا دفاعی ادارے کو برا بھلا کہیں ایسے پاکستان نہیں چل سکتا، پی ٹی آئی ان کا مذاق اُڑاتی ہے جو شدید سردی میں سیاچن میں کھڑے ہیں، ان کے خلاف باتیں کی جارہی ہیں جو اپنی جانیں دیتے ہیں، کل پی ٹی آئی کارکنان واٹر کینن سے فرار ہوگئے، کل واٹر کینن آیا تو پی ٹی آئی کا ایک ایم این اے مین ہول میں گرا،ٹانگ فریکچر ہو گئی۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ جو خودکش بمباروں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، تحریک انصاف پر پابندی کا ماحول اور جواز پیدا ہو رہا ہے، پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ قانونی جواز کے مطابق ہو گا، بانی پی ٹی آئی190ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں جیل میں ہیں، کاش پی ٹی آئی کہتی کےپی پولیو فری ہوگیا،سی ٹی ڈی فعال ہو گئی، بیانیے کا جواز قانونی جواز سے بھی جڑا ہوتا ہے، پی ٹی آئی کی خلاف ورزیاں قوم کو بتاتے رہیں گے۔

ان کا کہناتھا کہ پی ٹی آئی کا بیانیہ فوج اورملکی دفاع کے خلاف ہے، بھارتی چینلز پر جانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ افسوسناک ہے کہ اب انہیں بیانیے کیلئے بھارتی چینلز پر بیٹھنا پڑ رہا ہے، ہم پی ٹی آئی کو بےنقاب کرتے رہیں گے، پی ٹی آئی میں اب کچھ کرنے کا دم نہیں رہا، پی ٹی آئی کارکنان اڈیالہ جیل کے پہلے ناکے پر بھی نہیں پہنچ سکے، جو فوج کو للکارتے تھے وہ واٹرکینن سے ڈر گئے، انتظامیہ اور وسائل کے باوجود پشاور جلسےمیں گراؤنڈ خالی تھا، لوگ فوج کےخلاف بیانیے کو مسترد کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔

مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے

متعلقہ مضامین

  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار