پی ٹی آئی ریاست اور اداروں پر حملہ کر کے کس کی خدمت کر رہی ہے؟ طارق فضل چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
طارق فضل چوہدری—فائل فوٹو
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے سوال اٹھایا ہے کہ تحریکِ انصاف ریاست اور اداروں پر حملہ کر کے کس کی خدمت کر رہی ہے؟
’جیو نیوز‘ کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو میں طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ہمیں جب اپنے لیڈر سے ملنے کی اجازت نہیں ملتی تھی تو کیا ہم نے جیل پر جا کر دھرنے دیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ اپنے لیڈر کو جیل سے نکال کر لے جائیں گے، تحریکِ انصاف کے اپنے رہنما بانی پی ٹی آئی کے بیانات اون کرنے پر تیار نہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما سلمان اکرم راجہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے بیانات ذاتی رائے ہے، پارٹی کی پالیسی نہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بانیٔ پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں، ان کی جیل سے منتقلی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، غور تو کئی باتوں پر ہوتا رہتا ہے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے باہر یہ مناظر ہمارے لیے خوش کن نہیں ہیں، جیل میں موجود ہزاروں قیدیوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات موجود ہوں گے تو جو بھی نام ہوں گے ان کی ملاقات ہو گی، جیل مینئول کے مطابق طریقہ کار اختیار کریں تو ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ریاست اور اداروں پر حملے کر کے تحریکِ انصاف کس کی خدمت کر رہی ہے؟ فی الحال کسی تحریک کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آ رہے، پی ٹی آئی میں ٹوٹ پھوٹ کی بنیادی وجہ بیانیے کا بوجھ ہے جو یہ اٹھا نہیں سکتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: طارق فضل چوہدری پی ٹی ا ئی نے کہا کہ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔