مائنس عمران خان کے وفاق پر اثرات کا بھی تجزیہ کرلیں، فواد چودھری
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251209-1-7
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے متعلقہ حکام کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مائنس عمران خان کے وفاق پر اثرات کا بھی تجزیہ کرلیں، ہر کام غصے کا نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جب حکومت کے وزراء کہتے ہیں کہ تحریک انصاف مائنس عمران خان ہوگی تو اس کا مطلب ہی کیا ہے؟ تحریک انصاف تو آپ نے 9 مئی اور 20 جون کے دوران ٹھڈے مکے مار کر ختم کر دی تھی، اب تو عمران خان ہے اور عوام ہیں، تحریک انصاف نہ رجسٹرڈ پارٹی ہے، نہ ان کے پاس کوئی الیکشن سمبل ہے ،نہ ان کا اسٹرکچر ہے تو مائنس کیا ہونا ہے؟۔فواد چودھری کہتے ہیں کہ یہ جو بھی عہدیدار ہیں ان کو آج فارغ کر دیں، ان کی جگہ عمران خان کالج کے لڑکے لڑکیوں کو کہہ دیں کہ آج سے وہ تحریک انصاف ہیں تو وہ ہوں گے۔ ممبران اسمبلی کا استعفا کل عمران خان نے دلوانا ہے، آپ آج دلوا لیں کیا فرق پڑتا ہے، مائنس عمران خان کے وفاق پر اثرات کا بھی تجزیہ کر لیں، ہر کام غصے کا نہیں ہوتا۔خیال رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف والے اگر عمران خان کے بیانیے سے لاتعلقی کریں تو ان سے بات ہوسکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عمران خان کے تحریک انصاف
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔