پی ٹی آئی کا سیاسی مفاہمت کیلئے پیپلزپارٹی سے رابطے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
پی ٹی آئی کا سیاسی مفاہمت کیلئے پیپلزپارٹی سے رابطے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 10 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان تحریک انصاف سیاسی مفاہمت کے لیے ایک قدم آگے بڑھنے کو تیار ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے پیپلزپارٹی سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے، پیپلزپارٹی سے رابطہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کو دو روزہ قومی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔قومی کانفرنس میں سیاسی ڈائیلاگ کا راستہ نکالنے پر غور ہوگا، مسلم لیگ ن کو قومی کانفرنس میں دعوت نہیں دی جارہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو مذاکرات کے لیے محمود اچکزئی سمیت رفقا کی بانی سے ملاقات کروانا ہوگی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکوئی بھی جمہوری قیادت تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار نہیں، اختیار ولی خان کوئی بھی جمہوری قیادت تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار نہیں، اختیار ولی خان ایف بی آر کی نئی ویلیوایشن، اسلام آباد کے پوش علاقوں میں زمینوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ وزیراعلی بلوچستان کی کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد تحریک تحفظ آئین کا 20اور 21دسمبر کو اسلام آباد میں قومی کانفرنس بلانے کا اعلان عدلیہ قانون کی حکمرانی مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے، چیف جسٹس کا انسانی حقوق کے عالمی دن پر پیغام حکومت سیاسی مخالفین کیخلاف طاقت کے بے رحمانہ استعمال پر اتر آئی، پی ٹی آئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پیپلزپارٹی سے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔