تحریک انصاف کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی جاری، انجام کیا ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
تحریک تحفظ آئینِ پاکستان کے بینر تلے پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے گزشتہ روز پشاور میں ایک بڑا جلسہ منعقد کیا، جس میں وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہاکہ پی ٹی آئی پر ناقص حکمرانی کے الزامات بے بنیاد ہیں، اگر ایسا ہوتا تو جماعت کو خیبرپختونخوا میں تیسری بار عوام کا مینڈیٹ نہ ملتا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا پشاور میں جلسہ: بہت جلد ڈی چوک جانے کی کال دوں گا، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا اعلان
پی ٹی آئی رہنما شاہد خٹک نے مزید سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہاکہ اگر منتخب حکومت کو ہٹانے کی کوشش کی گئی تو ’اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی‘۔
جلسے کے دوران ایک قرارداد بھی منظور کی گئی، جس میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی رہائی اور دیگر سیاسی مطالبات شامل تھے، جبکہ چند روز قبل ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیانات کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
سیاسی محاذ آرائی یا نئی اسٹریٹجی؟سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان تحریکِ انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان محاذ آرائی اسی شدت کے ساتھ جاری رہے گی؟ اور اگر ایسا ہوا تو اس کے سیاسی و ریاستی نتائج کیا ہوں گے؟ حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ پی ٹی آئی جان بوجھ کر اداروں سے ٹکراؤ کی سیاست کررہی ہے، تاکہ اپنی سیاسی مشکلات اور داخلی کمزوریوں سے توجہ ہٹائی جا سکے۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں پی ٹی آئی کی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ آج کی تقاریر اور دھمکیوں نے ثابت کر دیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک دن قبل جو کچھ کہا، وہ درست تھا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی زبان سیاسی اختلاف کے دائرے سے نکل چکی ہے۔
اسی تناظر میں مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما انجینیئر خرم دستگیر نے اپنے بیان میں کہاکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس نے بہت سی غلط فہمیوں کو دور کردیا ہے۔
اُن کے مطابق قومی سلامتی کو سیاسی داؤ پیچ کا ہدف بنانا ایک خطرناک روش ہے، اور بیرونِ ملک پاکستان کے خلاف بیانیہ مضبوط کرنا یا ایسے اقدامات کی ترغیب دینا کسی بھی صورت سیاسی جدوجہد کے زمرے میں نہیں آتا۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار حماد حسن نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی سے کچھ خوفزدہ تو نظر آ رہی ہے اور اِسی وجہ سے ردعمل بھی دیا گیا، لیکن اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی باقی سیاسی جماعتوں جن کی وہاں طاقت بھی موجود ہے اور جنہوں نے وہاں حکومت بھی کی ہے اُن کے ساتھ معاملات درست اور تعلقات نہیں بڑھائے جا رہے۔
انہوں نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ ابھی تک اپنا تعلق جمیعت علمائے اِسلام یا اے این پی کے ساتھ نہیں بڑھا پائی اور یہ جماعتیں سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے دہشتگردوں کے خوف میں بھی مبتلا رہتی ہیں۔
حماد حسن نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی مقبولیت ختم ہو رہی ہے اور آج کا جلسہ بھی اتنا ہی تھا جتنا کوئی اور سیاسی جماعت بھی کر سکتی ہے، لیکن پی ٹی آئی کے علاوہ صوبے کی دیگر جماعتوں کے ساتھ رابطے نہیں بڑھائے جا رہے جس کی وجہ سے ایک خلا پیدا ہو رہا ہے۔
’پی ٹی آئی کی بدترین کرپشن اور بدترین طرزِ حکومت سے مقامی لوگ نالاں ہیں، اور اِسی لیے صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم کی جائے گی نہ گورنر راج لگے گا۔ پی ٹی آئی کو کوئی ایسا جواز فراہم نہیں کیا جائے گا جو اِس کی مقبولیت میں پھر سے اِضافے کا سبب بن سکے۔‘
سہیل وڑائچ کے پی ٹی آئی اور ریاستی اداروں کو مشورےسیاسی امور کے ماہر سینیئر صحافی سہیل وڑائچ اپنی مختلف تحریروں میں پاکستان تحریکِ انصاف کو گورننس کے مسائل دور کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور ساتھ میں یہ بھی کہتےہیں کہ سخت زبان وقتی طور پر کارکنوں کو متحرک کر سکتی ہے، لیکن طویل المدتی سیاست صرف احتجاجی بیانیے سے نہیں چلتی۔
ان کے مطابق عوام اب کارکردگی اور مسائل کے حل کا تقاضا کر رہے ہیں۔ دوسری طرف سہیل وڑائچ ریاست کو تحمل سے کام لینے کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔
اپنے گزشتہ روز شائع ہونے والے کالم میں لکھتے ہیں ’مگر تاریخ کا سبق یہی ہے کہ آگ کو ہوا نہ دی جائے بلکہ آگ پر پانی ڈالا جائے ۔ گزشتہ 3 سال سے مصالحت اور مذاکرات کی بات کرتے کرتے مایوسی تک پہنچنے کے باوجود اب بھی لڑائی، جھگڑا، سزائیں اور جماعت پر پابندی مسئلے کا مستقل حل نہیں، عارضی طور پر اس سے تحریک انصاف دب جائے گی لیکن غصے، تشدد اور دباؤ سے سیاسی تحریکیں ختم نہیں ہوتیں ان سیاسی جذبات اور سیاسی تحریکوں کو سیاست سے ہی ختم کرناپڑتا ہے۔
’سیاست کا مقابلہ ایلو پیتھک نہیں ہومیو پیتھک علاج سے ہوتا ہے‘’سیاست کا مقابلہ ایلو پیتھک طریقہ علاج سے نہیں بلکہ ہومیو پیتھک علاج سے ہوتا ہے۔ سیاست کے اندر جوش، غصے اور انتہا پسندی کا علاج دانش مندی ہے، عقل اور ٹھنڈے مزاج سے ہی جذبات سے نمٹا جاسکتا ہے۔‘
سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ تحریک انصاف کے انتہا پسندوں اور یوٹیوبرز کی بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنے علاوہ ہرایک کو ملزم، لفافی اور ٹاؤٹ سمجھتے ہیں۔ ریاست کو سیاست میں غصہ اور انتقام نہیں ڈالنا چاہیے۔ سیاست کا تعلق دانش سے ہے، اس کے مسائل غصے سے نہیں ٹھنڈے مزاج کے ساتھ دیکھیں۔
مزید پڑھیں: وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے عمران خان کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا
’تحریک انصاف کی غلطیوں، گستاخیوں، گالیوں اور ناانصافیوں کا جواب اسی کی زبان میں دینے کے بجائے اسے سیاست سے حل کرنے کا سلسلہ شروع کریں۔ سیاست کڑوے زہر سے بندے نہیں مارتی سیاست میٹھے زہر سے انسانوں کا شکار کرتی ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسٹیبلشمنٹ پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی سیاسی لڑائی فوجی ترجمان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیبلشمنٹ پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی سیاسی لڑائی فوجی ترجمان وی نیوز پاکستان تحریک تحریک انصاف سہیل وڑائچ پی ٹی ا ئی کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ساتھ ئی اور
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔