تحریک تحفظ آئینِ پاکستان کے بینر تلے پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے گزشتہ روز پشاور میں ایک بڑا جلسہ منعقد کیا، جس میں وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہاکہ پی ٹی آئی پر ناقص حکمرانی کے الزامات بے بنیاد ہیں، اگر ایسا ہوتا تو جماعت کو خیبرپختونخوا میں تیسری بار عوام کا مینڈیٹ نہ ملتا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا پشاور میں جلسہ: بہت جلد ڈی چوک جانے کی کال دوں گا، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا اعلان

پی ٹی آئی رہنما شاہد خٹک نے مزید سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہاکہ اگر منتخب حکومت کو ہٹانے کی کوشش کی گئی تو ’اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی‘۔

جلسے کے دوران ایک قرارداد بھی منظور کی گئی، جس میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی رہائی اور دیگر سیاسی مطالبات شامل تھے، جبکہ چند روز قبل ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیانات کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

سیاسی محاذ آرائی یا نئی اسٹریٹجی؟

سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان تحریکِ انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان محاذ آرائی اسی شدت کے ساتھ جاری رہے گی؟ اور اگر ایسا ہوا تو اس کے سیاسی و ریاستی نتائج کیا ہوں گے؟ حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ پی ٹی آئی جان بوجھ کر اداروں سے ٹکراؤ کی سیاست کررہی ہے، تاکہ اپنی سیاسی مشکلات اور داخلی کمزوریوں سے توجہ ہٹائی جا سکے۔

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں پی ٹی آئی کی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ آج کی تقاریر اور دھمکیوں نے ثابت کر دیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک دن قبل جو کچھ کہا، وہ درست تھا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی زبان سیاسی اختلاف کے دائرے سے نکل چکی ہے۔

اسی تناظر میں مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما انجینیئر خرم دستگیر نے اپنے بیان میں کہاکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس نے بہت سی غلط فہمیوں کو دور کردیا ہے۔

اُن کے مطابق قومی سلامتی کو سیاسی داؤ پیچ کا ہدف بنانا ایک خطرناک روش ہے، اور بیرونِ ملک پاکستان کے خلاف بیانیہ مضبوط کرنا یا ایسے اقدامات کی ترغیب دینا کسی بھی صورت سیاسی جدوجہد کے زمرے میں نہیں آتا۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار حماد حسن نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی سے کچھ خوفزدہ تو نظر آ رہی ہے اور اِسی وجہ سے ردعمل بھی دیا گیا، لیکن اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی باقی سیاسی جماعتوں جن کی وہاں طاقت بھی موجود ہے اور جنہوں نے وہاں حکومت بھی کی ہے اُن کے ساتھ معاملات درست اور تعلقات نہیں بڑھائے جا رہے۔

انہوں نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ ابھی تک اپنا تعلق جمیعت علمائے اِسلام یا اے این پی کے ساتھ نہیں بڑھا پائی اور یہ جماعتیں سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے دہشتگردوں کے خوف میں بھی مبتلا رہتی ہیں۔

حماد حسن نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی مقبولیت ختم ہو رہی ہے اور آج کا جلسہ بھی اتنا ہی تھا جتنا کوئی اور سیاسی جماعت بھی کر سکتی ہے، لیکن پی ٹی آئی کے علاوہ صوبے کی دیگر جماعتوں کے ساتھ رابطے نہیں بڑھائے جا رہے جس کی وجہ سے ایک خلا پیدا ہو رہا ہے۔

’پی ٹی آئی کی بدترین کرپشن اور بدترین طرزِ حکومت سے مقامی لوگ نالاں ہیں، اور اِسی لیے صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم کی جائے گی نہ گورنر راج لگے گا۔ پی ٹی آئی کو کوئی ایسا جواز فراہم نہیں کیا جائے گا جو اِس کی مقبولیت میں پھر سے اِضافے کا سبب بن سکے۔‘

سہیل وڑائچ کے پی ٹی آئی اور ریاستی اداروں کو مشورے

سیاسی امور کے ماہر سینیئر صحافی سہیل وڑائچ اپنی مختلف تحریروں میں پاکستان تحریکِ انصاف کو گورننس کے مسائل دور کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور ساتھ میں یہ بھی کہتےہیں کہ سخت زبان وقتی طور پر کارکنوں کو متحرک کر سکتی ہے، لیکن طویل المدتی سیاست صرف احتجاجی بیانیے سے نہیں چلتی۔

ان کے مطابق عوام اب کارکردگی اور مسائل کے حل کا تقاضا کر رہے ہیں۔ دوسری طرف سہیل وڑائچ ریاست کو تحمل سے کام لینے کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔

اپنے گزشتہ روز شائع ہونے والے کالم میں لکھتے ہیں ’مگر تاریخ کا سبق یہی ہے کہ آگ کو ہوا نہ دی جائے بلکہ آگ پر پانی ڈالا جائے ۔ گزشتہ 3 سال سے مصالحت اور مذاکرات کی بات کرتے کرتے مایوسی تک پہنچنے کے باوجود اب بھی لڑائی، جھگڑا، سزائیں اور جماعت پر پابندی مسئلے کا مستقل حل نہیں، عارضی طور پر اس سے تحریک انصاف دب جائے گی لیکن غصے، تشدد اور دباؤ سے سیاسی تحریکیں ختم نہیں ہوتیں ان سیاسی جذبات اور سیاسی تحریکوں کو سیاست سے ہی ختم کرناپڑتا ہے۔

’سیاست کا مقابلہ ایلو پیتھک نہیں ہومیو پیتھک علاج سے ہوتا ہے‘

’سیاست کا مقابلہ ایلو پیتھک طریقہ علاج سے نہیں بلکہ ہومیو پیتھک علاج سے ہوتا ہے۔ سیاست کے اندر جوش، غصے اور انتہا پسندی کا علاج دانش مندی ہے، عقل اور ٹھنڈے مزاج سے ہی جذبات سے نمٹا جاسکتا ہے۔‘

سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ تحریک انصاف کے انتہا پسندوں اور یوٹیوبرز کی بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنے علاوہ ہرایک کو ملزم، لفافی اور ٹاؤٹ سمجھتے ہیں۔ ریاست کو سیاست میں غصہ اور انتقام نہیں ڈالنا چاہیے۔ سیاست کا تعلق دانش سے ہے، اس کے مسائل غصے سے نہیں ٹھنڈے مزاج کے ساتھ دیکھیں۔

مزید پڑھیں: وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے عمران خان کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا

’تحریک انصاف کی غلطیوں، گستاخیوں، گالیوں اور ناانصافیوں کا جواب اسی کی زبان میں دینے کے بجائے اسے سیاست سے حل کرنے کا سلسلہ شروع کریں۔ سیاست کڑوے زہر سے بندے نہیں مارتی سیاست میٹھے زہر سے انسانوں کا شکار کرتی ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسٹیبلشمنٹ پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی سیاسی لڑائی فوجی ترجمان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹیبلشمنٹ پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی سیاسی لڑائی فوجی ترجمان وی نیوز پاکستان تحریک تحریک انصاف سہیل وڑائچ پی ٹی ا ئی کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ساتھ ئی اور

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا