علی امین گنڈاپور کا اسلام آباد دورہ، سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
اسلام آباد (طارق محمود سمیر)خیبر پختون خواہ کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اسلام آباد کے اہم دورے پر پہنچ گئے ہیں، جہاں امکان ہے کہ وہ کئی اہم شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ یہ ان کا وزارتِ اعلیٰ سے مستعفی ہونے کے بعد پہلا دورہ ہے اور حالیہ دنوں میں بانی پی ٹی آئی کے ٹویٹ اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد تحریک انصاف، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں ان کے دورے کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور کی کوشش ہے کہ وہ موجودہ سیاسی کشیدگی اور تلخی کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ وہ اسلام آباد میں بیرسٹر گوہر، تحریک انصاف کے چیئرمین سے ملاقات کر چکے ہیں، جس میں انہوں نے موجودہ صورتحال پر مشاورت کی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بات چیت کی۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم، اسد قیصر اور دیگر سینیئر رہنماؤں کے درمیان بھی رابطے ہوئے ہیں۔
ان ملاقاتوں اور رابطوں کا مقصد تحریک انصاف کے اندر پارٹی کی حکمت عملی مرتب کرنا، سیاسی ٹکراؤ کو کنٹرول کرنا اور اگر پارلیمنٹ کے اندر حکومت کے ساتھ مذاکرات کا موقع ملے تو اس کی سمت تیاریاں کرنا بتایا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور اس دورے کے ذریعے پارٹی اور سیاسی ماحول میں توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور تحریک انصاف اسلام ا باد
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔