وفاق کا سیاسی افراتفری پھیلانے والوں کیخلاف گھیرا تنگ، متعدد رہنما ای سی ایل میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
وفاق کا سیاسی افراتفری پھیلانے والوں کیخلاف گھیرا تنگ، متعدد رہنما ای سی ایل میں شامل WhatsAppFacebookTwitter 0 6 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس ) وفاقی حکومت کا سیاسی افراتفری پھیلانے والیعناصر کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق 9مئی فسادات کیحوالے سے بانی پی ٹی آئی سمیت دیگرکیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جب کہ تحریک انصاف کے اہم رہنماں کے بیرون ممالک جانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔دوسری جانب سیاسی رہنماں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی باضابطہ منظوری دیدی گئی، بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی، عمرایوب، فواد چودھری، شبلی فراز کے نام شامل ہیں۔
علاوہ ازیں علی امین گنڈا پور،شہریارآفریدی، عثمان ڈار، شیری مزاری، زرتاج گل، مسرت چیمہ، کنول شوزب شیخ رشید، شیخ راشد، میجر (ر)طاہر صادق، راجہ بشارت اور واثق قیوم عباسی سمیت دیگر شخصیات پر بھی بیرون ممالک جانے پر پابندی لگا دی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب نے فہرست سمیت وفاقی حکومت کو سفارشات بھجوائیں اور 9 مئی کے فسادات کے تناظر میں نام ای سی ایل میں ڈالنیکافیصلہ کیا۔خیال رہے کہ ای سی ایل کمیٹی نیسفارشات وفاقی حکومت کو منظوری کیلئے بھجوائی تھیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی ترقیاتی ادارے کے ڈپٹی کمشنر سردار آصف کی ڈپیوٹیشن کی مدت میں توسیع،دستاویزات سب نیوز پر سکوٹی حادثہ، جاں بحق 2 لڑکیوں کے خاندانوں نے ملزم کو معاف کردیا اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سفاکیت کا پردہ چاک کردیا افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن نے خطے کو درپیش خطرات سے آگاہ کر دیا ، پاکستان کا شمسی انقلاب دنیا کے لیے مثال بن چکا ہے،وزیر توانائی پاکستان اور امریکہ کا غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام پر اتفاق،موثر اقدمات تجویز عمران کی شناخت ملک دشمنی، جنگ میں بھی غلط زبان استعمال کی: وزیر دفاعCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سی ایل
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔