آر ایل این جی صارفین کیلئے بڑا ریلیف، حکومت نے بھاری بلوں کی پالیسی تبدیل کردی
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے 60 ارب روپے وصولی کا فیصلہ بدل دیا جس سے آر ایل این جی صارفین کو بڑا ریلیف ملے گا۔
تفصیلات کے مطابق اوگرا نے اپریل 2015 سے جون 2022 کی مدت کے لیے آر ایل این جی کی قیمتوں کی اصل وصولی کے مد میں 60 ارب روپے کی ریکوری سے متعلق اپنے سابقہ فیصلے پر نظر ثانی کر لی ہے۔
نئی تشخیص کے تحت، آر ایل این جی کے صارفین یہ رقم 24 ماہانہ اقساط میں ادا کریں گے اور تاخیر سے ادائیگی کے سرچارج کو معاف کردیا گیا ہے۔
اوگرا نے مزید کہا ہے کہ حقیقی مالی مشکلات کی صورت میں، صارف کی درخواست پر ایس این جی پی ایل حسبِ ضرورت اقساط کا خصوصی منصوبہ بھی منظور کر سکتا ہے تاہم، ایک بار اقساط کا انتظام طے پا جانے کے بعد کسی بھی تاخیر یا عدم ادائیگی کی صورت میں ایس این جی پی ایل کی پالیسی کے مطابق لیٹ پیمنٹ سرچارج لاگو ہوگا۔
اس فیصلے کے نتیجے میں، بجلی کا شعبہ، برآمد پر مبنی صنعتیں، کھاد بنانے والے ادارے اور سی این جی سیکٹر 60 ارب روپے میں سے اپنا متعلقہ حصہ 24 اقساط میں بغیر کسی تاخیر سے ادائیگی کے سرچارج کے ادا کریں گے۔
یہ فیصلہ اپریل 2015 سے جون 2020 کے درمیان ریگولیٹر کی طرف سے عارضی آر ایل این جی قیمتیں جاری کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے برسوں پر محیط تنازعات کے بعد آیا ہے۔
جب اوگرا نے بعد میں اصل قیمتوں کا تعین کیا تو اس نے 59.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا ر ایل این جی ارب روپے
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ