جماعت اسلامی کے صوبائی امیر کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ کئی ماہ سے بدامنی، ٹارگٹ کلنگ، اغواء برائے تاوان اور دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی عبدالواسع نے کہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق گردش کرتی افواہیں نہ صرف تشویش ناک ہیں بلکہ جمہوری عمل اور صوبائی خودمختاری کے تقاضوں کی بھی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ جماعت اسلامی روزِ اوّل سے اس طرزِ حکمرانی کی سخت مذمت کرتی رہی ہے اور واضح کرتی ہے کہ انتظامی ناکامیوں کا حل غیر جمہوری اقدامات نہیں، بلکہ مؤثر طرزِ حکمرانی اور قانون کی عملی بالادستی میں مضمر ہے۔ ان خیالات کا اظہار امیرِ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی عبدالواسع نے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی کے امرائے اضلاع کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جو جماعت اسلامی کے صوبائی ہیڈ کوارٹر مرکز اسلامی پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں موجودہ صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی اور امن و امان کی گھمبیر صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور صوبے بھر میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ موجودہ حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ کئی ماہ سے بدامنی، ٹارگٹ کلنگ، اغواء برائے تاوان اور دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ صوبے کے اکثر اضلاع میں ترقیاتی منصوبے روک دیے گئے ہیں، فنڈز منجمد ہیں، اور عوام بنیادی سہولیات کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حکومت کی اس عدم توجہی نے انتظامی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیرِ صوبہ عبدالواسع نے مزید کہا کہ صوبہ اس وقت تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ عوام کو تحفظ چاہیے، روزگار چاہیے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی چاہیے، لیکن صوبائی حکومت رائے عامہ، اضلاع کی آواز اور زمینی حقائق سے مکمل بے خبر ہے۔ گورنر راج کی باتیں اس ناکامی کو چھپانے کی کوشش ہیں۔ جماعت اسلامی اس غیر سنجیدہ طرزِ حکمرانی کو مسترد کرتی ہے اور عوام کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھے گی۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت فوری طور پر امن و امان کی بحالی کے لیے واضح اور مضبوط حکمت عملی پیش کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا جماعت اسلامی

پڑھیں:

دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو

اسکردو میں پی پی پی کے جلسے سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری(bilawal bhutto zardari) نے کہا کہ پچھلے الیکشن میں گلگت بلتستان کا دورہ کیا، جی بی کے اضلاع میں جتنا میں آیا ہوں اتنا کوئی اور سیاستدان نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں خامنہ ای کو شہید کیا گیا، ان حالات میں یہاں انتخابی مہم چلانا مناسب نہیں سمجھا۔

پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔ امن کوششیں کامیاب ہونا ضروری ہے، ایران کے ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی پسماندہ طبقے کی نمائندگی کرنے والی واحد سیاسی جماعت ہے، یہ کیسی معاشی پالیسی اور ترقی ہے کہ امیر، امیر تر ہو۔

بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اسلام آباد کا وہ واحد ادارہ ہے، جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی، بجٹ میں وزیراعظم بی آئی ایس پی کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

مزید پڑھیں: کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر

پی پی چیئرمین نے کہا کہ ایٹم بم ذوالفقار بھٹو اور میزائل ٹیکنالوجی شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے دی، جی بی کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا، جی بی کو نام صدر زرداری نے دیا۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا