14 فٹ بڑے مگرمچھ کا شہری آبادی میں دھرنا، ٹریفک جام کردیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک بڑا مگرمچھ اچانک شہری آبادی کے علاقے میں آپہنچا اور سڑک کے درمیان لیٹ کر ٹریفک جام کردیا۔ حیرت زدہ ڈرائیوروں نے فوراً پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد اہلکار اور ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ گئے۔
واقعہ سیراسوٹا کاؤنٹی میں پیش آیا، جہاں مگرمچھ کی آمد سے نہ صرف گاڑیاں رُک گئیں بلکہ دیکھنے والوں کی بھی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔ پولیس نے کافی کوشش کے بعد مگرمچھ کو قابو کیا اور ٹرک کے ذریعے اسے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ بعد ازاں اسے جنگل میں چھوڑ دیا گیا۔
فلوریڈا فش اینڈ وائلڈ لائف کمیشن کا کہنا ہے کہ موسم اور درجہ حرارت کے بدلنے کے باعث مگرمچھ اکثر آبادی کی طرف آجاتے ہیں، کیونکہ وہ جسمانی درجہ حرارت برقرار رکھنے کے لیے سورج کی گرمی پر انحصار کرتے ہیں۔
کمیشن نے مزید بتایا کہ ریاست میں پکڑا جانے والا سب سے بڑا مگرمچھ 14 فٹ اور ساڑھے تین انچ لمبا تھا، جسے جھیل واشنگٹن کے علاقے سے نکالا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔