کراچی (نیوزڈیسک) ہم تمام مسالک کی نمائندگی کرتے ہیں کسی ایک مسلک کے نمائندہ نہیں ہیں، ترجمان جے یو آئی اسلم غوری نے کہا ہے کہ اقتدار میں آکر کہتے ہو کہ ہماری کرسی بہت مضبوط ہے۔ لیکن یاد رکھو کرسی صرف آیت الکرسی والے کی مضبوط ہے۔تفصیلات کے مطابق اسلم غوری نے کہا کہ حکمراں اگر دینی اداروں کی اتنی ہی مدد کرنا چاہتے ہیں تو مساجد کے بل معاف کردیں۔ اقتدار میں آکر کہتے ہو کہ ہماری کرسی بہت مضبوط ہے۔ لیکن یاد رکھو کرسی صرف آیت الکرسی والے کی مضبوط ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں تھا اس کی حکومت کی پالیسیوں سے جھگڑا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکمران گرم زمین پر پاؤں نہ رکھیں ورنہ پاؤں جل جائیں گے۔ زنانہ پاؤں گرم زمین برداشت نہیں کر سکیں گے۔ پنجاب کے حکمران خوف کی فضا پیدا کرکے حکومت کرنا چاہتے ہیں۔ترجمان جے یو آئی کا کہنا تھا کہ اگر غریب کو تنگ کرو گے تو یہ آگ تمہارے محلات تک بھی پہنچے گی۔ پنجاب کے حکمران علماء کرام سے پنگا بند کردیں۔ پنجاب کے حکمرانوں! علماء کرام کو پچیس ہزار میں خریدنا چاہتے ہو۔ حکمران اختلافات پیدا کرکے مذہبی تصادم کو ہوا دیتے ہیں۔ ہم تمام مسالک کی نمائندگی کرتے ہیں کسی ایک مسلک کے نمائندہ نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عسکری لیبارٹریز سے پیدا ہونے والو! علماء کو کوئی نہیں دبا سکتا۔ جس ضیاء الحق کی لیبارٹری سے تم پیدا ہوئے ہم نے اسے بھی چین سے حکومت نہیں کرنے دی۔ 27ویں ترمیم سے متفقہ آئین کو متنازعہ بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں اور جماعتوں کو اعتماد لئے بغیر ستائیسویں ترمیم کی منظوری ملک توڑنے کے مترادف ہے۔ اپنی حرکتوں سے باز آ جاؤ ، کہیں حکومت قربان نہ کرنی پڑجائے۔ جمعیۃ علمائے اسلام کا راستہ سازشوں کے ذریعے روکا جارہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا