حکمران علما ء سے پنگا مت لیں، گرم زمین پر پائوں جل جائینگے، جے یو آئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
کراچی (نیوزڈیسک) ہم تمام مسالک کی نمائندگی کرتے ہیں کسی ایک مسلک کے نمائندہ نہیں ہیں، ترجمان جے یو آئی اسلم غوری نے کہا ہے کہ اقتدار میں آکر کہتے ہو کہ ہماری کرسی بہت مضبوط ہے۔ لیکن یاد رکھو کرسی صرف آیت الکرسی والے کی مضبوط ہے۔تفصیلات کے مطابق اسلم غوری نے کہا کہ حکمراں اگر دینی اداروں کی اتنی ہی مدد کرنا چاہتے ہیں تو مساجد کے بل معاف کردیں۔ اقتدار میں آکر کہتے ہو کہ ہماری کرسی بہت مضبوط ہے۔ لیکن یاد رکھو کرسی صرف آیت الکرسی والے کی مضبوط ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں تھا اس کی حکومت کی پالیسیوں سے جھگڑا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکمران گرم زمین پر پاؤں نہ رکھیں ورنہ پاؤں جل جائیں گے۔ زنانہ پاؤں گرم زمین برداشت نہیں کر سکیں گے۔ پنجاب کے حکمران خوف کی فضا پیدا کرکے حکومت کرنا چاہتے ہیں۔ترجمان جے یو آئی کا کہنا تھا کہ اگر غریب کو تنگ کرو گے تو یہ آگ تمہارے محلات تک بھی پہنچے گی۔ پنجاب کے حکمران علماء کرام سے پنگا بند کردیں۔ پنجاب کے حکمرانوں! علماء کرام کو پچیس ہزار میں خریدنا چاہتے ہو۔ حکمران اختلافات پیدا کرکے مذہبی تصادم کو ہوا دیتے ہیں۔ ہم تمام مسالک کی نمائندگی کرتے ہیں کسی ایک مسلک کے نمائندہ نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عسکری لیبارٹریز سے پیدا ہونے والو! علماء کو کوئی نہیں دبا سکتا۔ جس ضیاء الحق کی لیبارٹری سے تم پیدا ہوئے ہم نے اسے بھی چین سے حکومت نہیں کرنے دی۔ 27ویں ترمیم سے متفقہ آئین کو متنازعہ بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں اور جماعتوں کو اعتماد لئے بغیر ستائیسویں ترمیم کی منظوری ملک توڑنے کے مترادف ہے۔ اپنی حرکتوں سے باز آ جاؤ ، کہیں حکومت قربان نہ کرنی پڑجائے۔ جمعیۃ علمائے اسلام کا راستہ سازشوں کے ذریعے روکا جارہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔