سیاسی درجہ حرارت بڑھنے لگا، پی ٹی آئی کا مستقبل اب کیا ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف پر 9 مئی کے بعد سے مختلف پابندیاں عائد کی گئی ہیں تاہم اب بھی ان پابندیوں کا سلسلہ رک نہیں رہا ہے اور اب حکومت نے بانی پی ٹی آئی سے جیل میں اہلخانہ کے ساتھ ملاقاتوں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی جیل ملاقاتوں پر پابندی یا ملاقات سے ذاتی انکار، مسئلہ ہے کیا؟
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو اب تک عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی ہے جبکہ سینیٹر فیصل واوڈا نے پی ٹی آئی پر مزید پابندیوں اور سہیل آفریدی کی نااہلی کی بات بھی کر دی ہے۔
وی نیوز نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ پی ٹی آئی پر کون سی پابندیاں حال ہی میں عائد ہوئی ہیں اور کون سی مزید پابندیوں کے عائد ہونے کا امکان ہے۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف آنے والے دنوں میں مزید سخت اقدامات دیکھنے میں آ سکتے ہیں، پیر کے روز سے ریاستی ادارے پارٹی کے خلاف کارروائیوں کو تیز کر سکتے ہیں، گورنر راج کی بحث دوبارہ زور پکڑ سکتی ہے اور ان کے مطابق صوبائی حکومت کی کارکردگی، بڑھتی ہوئی بدامنی اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے اس کا امکان بڑھ رہا ہے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف مزید مقدمات بھی بن سکتے ہیں اور امکانات زیادہ ہیں ان کو بھی نااہل قرار دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج، دھرنوں یا مزاحمت کا راستہ اختیار کیا گیا تو ریاستی اداروں کی جانب سے مزید سخت ردعمل سامنے آسکتا ہے، اب ریاست مخالف اور بھارتی ایجنڈے پر نہیں چلنے دیا جائے گا۔
مزید پڑھیے: عظمیٰ خان کی عمران خان سے ملاقات پر پابندی عائد، اب اڈیالہ جیل کے باہر تماشا نہیں لگانے دیں گے، حکومت
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی دعویٰ کرتی ہے کہ ساڑھے 4 کروڑ لوگ ان کے ساتھ ہیں لیکن سامنے 450 لوگ بھی نہیں آتے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ 9 مئی کے وہ ملزمان جو خیبر پختونخوا میں چھپے ہوئے ہیں انہیں بھی اپنی خیر منانی چاہیےکیوں کہ ان کو بھی ریاست جلد تحویل میں لے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج اور فیلڈ مارشل کے خلاف بات کرنے والوں کی زبان نکال کر جوتے کا تلا بنایا جائے گا جبکہ بیرون ملک فرار اور پاکستان میں موجود یوٹیوبرز کے خلاف بھی سخت ایکشن ہو گا۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے اگر انچ برابر بھی ہڑا ہُڑی کی تو باقی بچی کُھچی سیاست گورنر راج کے ذریعے ختم کر دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور پی ٹی آئی کو سیاست میں مزید گڑبڑ کرنی ہے تو پھر وہ صوبے میں گورنر راج کے لیے تیار ہوجائیں۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ گورنر راج کے بعد صوبے میں بے تحاشا ترقیاتی کام ہوں گے اور پوری قوت سے آپریشنز بھی ہوں گے۔
مزید پڑھیں: عمران خان سے ملاقات: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اڈیالہ جیل جانے سے روک دیا گیا
انہوں نے مزید کہا کہ خبیرپختونخوا میں 9 مئی کے بگھوڑوں کو جو وہاں پیسہ بھی بنا رہے ہیں گھسیٹا جائے گا اور کیسز منطقی انجام تک پہنچیں گے۔
دوسری جانب حکومت نے عظمیٰ خان کی بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات پر پابندی عائد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب اڈیالہ جیل کے باہر کسی کو تماشا نہیں لگانے دیں گے، قانون کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائےگی، جن لوگوں نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے ان کی اب عمران خان سے ملاقات نہیں ہوگی۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعرات کے روز برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ سے ملاقات میں پی ٹی آئی حکومت میں عمران خان کے سابق معاونِ خصوصی شہزاد اکبر اور یوٹیوبر عادل راجا کی حوالگی کے کاغذات ان کے حوالے کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: ’ایسی کی تیسی‘ والی بات پی ٹی آئی کے لیے کی، سہیل آفریدی کی کل بھی عمران خان سے ملاقات نہیں ہوگی، فیصل واوڈا
اس طرح یہ واضح ہوتا ہے کہ بیرون ملک سے پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف سازش کرنے والوں کو بھی پاکستان لایا جائے گا اور ان کے خلاف سخت ایکشن ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عظمیٰ خان عمران خان عمران خان سے جیل میں ملاقات عمران خان سےملاقات پر پابندی وزیر اعلیٰ خیبر پحتونخوا سہیل آفریدی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عمران خان سے جیل میں ملاقات عمران خان سےملاقات پر پابندی وزیر اعلی خیبر پحتونخوا سہیل ا فریدی فیصل واوڈا نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات خیبر پختونخوا گورنر راج پر پابندی پی ٹی آئی جائے گا کے خلاف
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش