ڈی جی آئی ایس پی آر نے عمران خان کو ذہنی مریض قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ائی) اور سابق وزیراعظم عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں ذہنی مریض قرار دے دیا اور کہا کہ وہ ریاست اور فوج کے خلاف بیانیہ پھیلا رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فوج پاکستان کی سیاسی قیادت کا احترام کرتی ہے، لیکن کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ پاکستان کی افواج اور عوام کے درمیان خلیج ڈالے یا عوام کو فوج کے خلاف بھڑکائے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ عمران خان آئین، قانون اور قواعد کو بالائے طاق رکھ کر اپنی رائے پیش کرتے ہیں اور ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ عام کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان خود کو مکمل علم کا حامل سمجھتے ہیں اور باقی سب کو غلط تصور کرتے ہیں، سابقہ اقدامات، جیسے 9 مئی کو جی ایچ کیو پر حملہ اور عوام کو آپریشن کے خلاف اکسانا، ذہنی مرض کی علامات ہیں۔
جنرل احمد شریف نے کہا کہ اس شخص کی منطق کے مطابق اگر بھارت حملہ کرے تو وہ بات چیت کے لیے تیار ہونے کے بجائے ہنگامہ کھڑا کرتا ہے اور خارجی عناصر کو پاکستان میں دفتر کھولنے کی دعوت دیتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے عمران خان کو ذہنی مریض اور ٹیریر کرائم نیٹ ورک سے وابستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق منشیات، غیر قانونی سرگرمیوں، اغوا برائے تاوان اور دیگر خطرناک سرگرمیوں سے بھی ہے، عمران خان کی سیاست یا ذاتی مفادات ریاست سے بالاتر نہیں ہو سکتے۔
یہ بیان پاک فوج کی طرف سے واضح پیغام ہے کہ وہ کسی بھی فرد یا گروہ کو عوام اور ریاست کے درمیان تناؤ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دے گی، اور قانونی و آئینی حدود کے اندر رہ کر ہی سیاسی اختلافات کی اجازت ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
اڈیالا جیل راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی زوجہ محترمہ کی ملاقات کانفرنس روم میں کرائی گئی، ملاقات 50 منٹ تک جاری رہی۔ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے آئے وکلاء اور فیملی ارکان میں سے کسی بھی شخص کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ اسلام ٹائمز۔ اڈیالا جیل راولپنڈی میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کروا دی گئی۔ جیل ذرائع کے مطابق ملاقات کانفرنس روم میں کرائی گئی، ملاقات 50 منٹ تک جاری رہی۔ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے آئے وکلاء اور فیملی ارکان میں سے کسی بھی شخص کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی، شفیع جان، مینا خان آفریدی فیکڑی ناکے پر موجود رہے، بانی کی تینوں بہنیں کارکنان کی کثیر تعداد کے ہمراہ فیکٹری ناکے پر موجود رہیں۔