عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کے بھارتی میڈیا چینلز پر انٹرویوز، مقصد کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقاتوں اور ان کی صحت کے معاملے کو لے کر افغانستان اور انڈیا کے میڈیا نے پراپیگنڈا شروع کردیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کل شب عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی نے متعدد بھارتی نیوز چینلز کو انٹرویوز دیے، ان چینلز میں اے این آئی بھی شامل تھا جو بھارت کی نیوز ایجنسی ہے اور اسے نریندر مودی کا حامی سمجھا جاتا ہے۔ انٹرویو کے بعد نورین نیازی کے کلپس اے این آئی نے چلا کر پراپیگنڈا کیا۔
یہ بھی پڑھیے: لگتا ہے اڈیالہ جیل میں مارشل لا لگا ہوا ہے، عمران خان کی بہن نورین نیازی بھی سامنے آگئیں
اے پی بی نیوز جسےانتہا پسند جماعت پی جی پی کا ماؤتھ پیس سمجھا جاتا ہے، نے بھی نورین نیازی کا انٹرویو نشر کیا۔اس کے علاوہ این ڈی ٹی وی، نیوز9 اور این ڈی ٹی وی انگلش پر بھی عمران خان سے ملاقاتوں کے معاملے پر نورین نیازی کے انٹرویوز نشر ہوئے۔ ان انٹرویوز کے بعد پاکستان مخالف بھارتی صحافی ارناب گوسوامی اور برکھادت نے بھی ان انٹرویوز کی بنیاد پر پروگرام کیے اور پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل مئی میں پاک انڈیا جنگ کو علیمہ خان نے ڈراما بازی قرار دیا تھا۔
نورین نیازی کے بھارتی میڈیا پر انٹرویوز کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور ماہرین کے مطابق پاکستان کے اندرونی مسائل کو بین الاقوامی محاذ پر لے جانے کا مقصد پاکستان کے خلاف ملک دشمن عناصر کو صف بندی کرنے کا جواز مہیا کرنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نورین نیازی کے
پڑھیں:
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
امریکا میں آپریشن چیک میٹ کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری سخت کریک ڈاؤن کی لپیٹ میں ہیں۔
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کے لیے وبال جان بن چکے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا نے وفاقی امیگریشن نافذ کرنے کی مہم ’آپریشن چیک میٹ‘ کے تحت سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق آپریشن چیک میٹ کے تحت گرفتار کیے گئے 36 ٹرک ڈرائیوروں میں سے کم از کم 30 بھارتی شہری تھے۔
خود بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس تک موجود نہیں تھے ۔ تمام افراد کیخلاف امریکی قانون کے تحت کارروائی کر کے امریکا سے نکالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
یوما سیکٹر کے قائم مقام چیف پٹرول ایجنٹ ڈسٹن کاڈل نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر موجود بھارتی ڈرائیورعوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں ۔
سعودی عرب، کینیڈا اور امریکا سمیت بیشتر ممالک جعلی دستاویزات اورفراڈ سمیت متعدد وجوہات کی بنیاد پر بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر چکے ہیں ۔ بھارتی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق2021 سے 2025 کے دوران 52 مختلف ممالک سے 171,150 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق مودی کے نام نہاد شائننگ انڈیا کے دعووں کے باوجود بھارتی شہریوں نےغیر قانونی طور پر ملک سے بھاگ کر بھارت کا پول کھول دیا ہے۔ مختلف ممالک میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور سنگین جرائم میں ملوث بھارتی تارکین عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔