data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251206-11-5
کوئٹہ(آئی این پی) صوبائی مشیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمن خان ملاخیل سے مختلف سماجی تنظیموں، ماہرینِ ماحولیات اور شہری نمائندوں پر مشتمل وفود نے ملاقات کی، جس میں صوبے کی مجموعی ماحولیاتی صورتحال، موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اس موقع پر صوبائی مشیر نے بتایا کہ بلوچستان اس وقت شدید ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ کم بارشوں کے باعث متعدد اضلاع میں پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں جبکہ کوئٹہ میں زیرزمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا رہی ہے، جس پر حکومت نے فوری، درمیانی اور طویل مدتی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ماحول دوست پالیسی سازی کے لیے کلائمٹ چینج پالیسی 2024نافذ کر دی گئی ہے جس کے لیے 500 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، یہ پالیسی نہ صرف موجودہ مسائل سے نمٹنے میں معاون ثابت ہوگی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے پائیدار ماحول کی بنیاد بھی فراہم کرے گی۔ ملاقات کے دوران نسیم الرحمن ملاخیل نے حکومت کے حالیہ ماحولیاتی اصلاحاتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں پلاسٹک بیگز کے استعمال پر مرحلہ وار پابندی نافذ کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فضلے میں کمی اور ماحول کو آلودگی سے بچانا ہے۔ اسی طرح انہوں نے اسپتالوں کے فضلات کے محفوظ اور جدید طریقوں سے ٹھکانے لگانے کے لیے بنائے گئے نئے انتظاماتی نظام سے بھی وفود کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے اداروں میں میڈیکل ویسٹ کو مناسب طریقے سے تلف کرنے کے لیے انسینیریشن یونٹس کو فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ ماحول اور انسانی صحت دونوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ صوبائی مشیر نے یہ بھی بتایا کہ شہری علاقوں میں صفائی اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نئے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں فضلے کی علیحدگی، ری سائیکلنگ اور ڈمپنگ سائٹس کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ شجرکاری مہمات جاری ہیں اور موجود پودوں و درختوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ نسیم الرحمن ملاخیل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت تنہا موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نہیں نمٹ سکتی اور اس جدوجہد میں سماجی تنظیموں اور شہریوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ روزمرہ زندگی میں ماحول دوست عادات اپنائیں، جیسے پلاسٹک بیگز کا استعمال کم کرنا، پانی کے ضیاع سے بچنا، شجرکاری میں حصہ لینا اور دھوئیں و زہریلی گیسوں کے اخراج کو کم کرنا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور عوام مل کر قدم اٹھائیں تو بلوچستان کو ماحولیاتی بگاڑ اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے، اس لیے مستقبل کی حفاظت کے لیے مشترکہ کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلی انہوں نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ