روس کا کیف پر ڈرون میزائل سے حملہ، دو افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
یوکرینی حکام نے اطلاع دی ہے کہ آج صبح کیف کو ایک روسی ڈرون اور میزائل حملے نے نشانہ بنایا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کیف پر روسی حملے میں دو افراد ہلاک اور دو درجن زخمی ہوئے ہیں۔
یوکرینی وزیر خارجہ ایندری سبیہا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ روس نے درجنوں کروز اور بیلسٹک میزائل اور 500 سے زیادہ ڈرونز سے عام گھروں، توانائی کے گرڈ اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جب دنیا تنازعات کے لیے امن کے منصوبوں پر بات کر رہی تھی، تو ماسکو "قتل اور تباہی کے در پر ہے۔
واضح رہے کہ قبل ازیں کیف کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تاکاچینکو نے ٹیلی گرام پر کہا تھا کہ روسی ڈرون شہر کے اوپر ہیں اور دارالحکومت کے مضافات میں متعدد اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں جب کہ فضائی دفاع جواب دے رہی ہے۔
مزید برآں شہر میں آدھی رات کے قریب دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئی تھیں۔ فضائی الرٹ نو گھنٹے سے زیادہ جاری رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔