’ہمایوں سرفہرست ہیں‘، فلرٹنگ کے سوال پر مہوش حیات کا جواب وائرل
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
سپر اسٹار مہوش حیات نے پاکستان کے مقبول ترین اداکار ہمایوں سعید کو فلرٹ ریٹ دینے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ْمہوش حیات ان دنوں پاکستان سلیبرٹی کرکٹ لیگ (PCCL)کیلئے ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں موجود ہیں ، اس دوران مداحوں سے گفتگو کے دوران اداکارہ نے ہمایوں سعید کی مزاحیہ اور دوستانہ نیچر پر گفتگو کی۔مداحوں کے سوال پرمہوش حیات نے بتایا کہ‘ہمایوں کی نیچر کو فلرٹ نہیں کہا جاسکتا لیکن وہ کافی دوستانہ اور مزاح سے بھرپور شخصیت کے مالک ہیں، جب ہم دونوں ڈائریکٹر ندیم بیگ کے ساتھ کوئی پروجیکٹ کررہے ہوں تو ہم تینوں کے درمیان ایک مزاحیہ ٹرائی اینگل چل رہا ہوتا ہے کہ مہوش سے زیادہ نزدیک کون ہے؟‘اداکارہ نے واضح کیا کہ‘ہم سب بہت اچھے دوست ہیں اور میں شادی شدہ مردوں کے ساتھ کام کرتی ہوں لہٰذا ہمارے درمیان دوستی سے زیادہ کچھ بھی نہیں، سب میرے لیے فیملی فرینڈ کی طرح ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں ‘۔تاہم ندا یاسر نےمہوش حیات پر زور دیتے ہوئے سوال جاری رکھا کہ ’ اگر تم سے فلم اسٹار ز ہمایوں سعید، فہد مصطفیٰ، اظفر رحمان اور احسن خان کو فلرٹنگ میں نمبر دینے کا سوال کیا جائے تو تم سرفہرست کس کا نام رکھوں گی اوران اداکاروں کو کس طرح نمبر دو گی؟ اس کے جواب مہوش حیات کا کہنا تھا کہ سرفہرست ہمایوں سعید کو رکھوں گی، اس کے بعد دوسرا نمبر احسن خان ، تیسرا نمبر فہد مصطفیٰ کا ہے، اظفر رحمان میرے دوست ہیں ان کے ساتھ فلرٹ کا کوئی سین نہیں۔دوسری جانب اسی دوران ندا یاسر نے مداحوں سے سوال کیا کہ مہوش کو کھانے میں سبب سے زیادہ کیا پسند ہے جس کے جواب میں ایک خاتون مداح نے بریانی کا نام لیا، اس پر مہوش نے ہنستے ہوئے مداح کو بتایا کہ آپ میری سچی مداح ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ہمایوں سعید مہوش حیات سے زیادہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔