سپر اسٹار مہوش حیات نے پاکستان کے مقبول ترین اداکار ہمایوں سعید کو فلرٹ ریٹ دینے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ْمہوش حیات ان دنوں  پاکستان سلیبرٹی کرکٹ لیگ (PCCL)کیلئے ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں موجود ہیں ، اس دوران مداحوں سے گفتگو کے دوران اداکارہ نے ہمایوں سعید کی مزاحیہ اور دوستانہ نیچر  پر  گفتگو کی۔مداحوں کے سوال پرمہوش حیات نے بتایا کہ‘ہمایوں  کی نیچر کو  فلرٹ نہیں کہا جاسکتا لیکن وہ  کافی دوستانہ اور مزاح سے بھرپور شخصیت کے مالک ہیں،  جب ہم دونوں ڈائریکٹر ندیم بیگ کے ساتھ کوئی پروجیکٹ کررہے ہوں تو ہم تینوں کے درمیان ایک مزاحیہ ٹرائی اینگل چل رہا ہوتا ہے کہ مہوش سے زیادہ نزدیک کون ہے؟‘اداکارہ نے واضح کیا کہ‘ہم سب بہت اچھے دوست ہیں اور میں شادی شدہ مردوں کے ساتھ کام کرتی ہوں لہٰذا ہمارے درمیان دوستی سے زیادہ کچھ بھی نہیں، سب میرے لیے فیملی فرینڈ کی طرح ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں ‘۔تاہم ندا یاسر نےمہوش حیات پر زور دیتے ہوئے  سوال جاری رکھا کہ ’ اگر تم سے فلم اسٹار  ز ہمایوں سعید، فہد مصطفیٰ، اظفر رحمان اور احسن خان کو فلرٹنگ میں نمبر دینے کا سوال کیا جائے تو تم  سرفہرست کس کا نام رکھوں گی اوران اداکاروں کو کس طرح نمبر دو گی؟ اس کے جواب مہوش حیات کا کہنا تھا کہ سرفہرست ہمایوں سعید کو رکھوں گی، اس کے بعد دوسرا نمبر احسن خان ، تیسرا نمبر فہد مصطفیٰ کا ہے،  اظفر رحمان میرے دوست ہیں ان کے ساتھ فلرٹ کا کوئی سین نہیں۔دوسری جانب اسی دوران  ندا یاسر  نے مداحوں سے سوال کیا کہ مہوش کو کھانے میں سبب سے زیادہ کیا پسند ہے جس کے جواب میں ایک خاتون  مداح نے بریانی کا نام لیا، اس پر مہوش نے ہنستے ہوئے مداح کو بتایا کہ آپ میری سچی مداح ہیں ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ہمایوں سعید مہوش حیات سے زیادہ

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • رام چرن کا ہمشکل جنونی مداح جھانوی کپور پر جھپٹ پڑا، ویڈیو وائرل
  • وزیر تعلیم پنجاب کا سمر کیمپ کے حوالے سے حکومتی ہدایت پر عملدرآمد نہ کرنے کا نوٹس
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا