آئین وقانون کی بلاتفریق بالادستی کو یقینی بنایا جائے‘ سنی تحریک
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) سربراہ سندھ سنی تحریک محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ ملک کو انتہاپسندی ودہشتگردی سے پاک کرکے آگے بڑھا جاسکتا ہے،دہشتگردسرحد پار ہوں یا اندورن ملک کسی بھی صف میں ہوں کاروائی عمل میں لائی جائے،آئین وقانون کی بلاتفریق بالادستی کو یقینی بنایا جائے،ملک کو معاشی استحکام کیلئے حکومت دعوؤں سے کام نہ چلائے، عوام کو روزگار فراہم کرکے معاشی استحکام کی کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا جاسکتا ہے، فرقہ واریت پھیلانے والے بیرونی ایجنڈے پر گامزن ہیں جو ملک کو غیر متزلزل کرنا چاہتے ہیں،ملک کے عوام فرقہ واریت پھیلانے والے کو مسترد کردیں کسی کو بھی ملک میں بیرونی ایجنڈہ مسلط کرنے نہیں دینگے،ملک کے مفاد میں تمام اکائیوں کو ایک ہوکر کام کرنا ہوگا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا،محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پاکستان میں پائیدار کے جدوجہد کرتے رہینگے،ملک سے فرقہ واریت اور دہشتگردی کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت ختم کیا جائے،انہوں کا کہنا تھا کہ ملک کی سلامتی وبقاء کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے ملک کی طرف میلی آنکھ دیکھنے والوں کی آنکھ ہھوڑنا اچھی طرح جانتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔