بھارت اور پی ٹی آئی ملکی سالمیت کے خلاف ایک پیج پر ہیں، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا طرز سیاست جمہوری نہیں،انتشار پھیلانا ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے لمز میں 2 روزہ "انٹرنیشنل کانفرنس آن گرین پروڈکٹیویٹی 2.0" کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا طرز سیاست جمہوری نہیں،انتشار پھیلانا ہے۔ بھارت اور پی ٹی آئی ملکی سالمیت کے خلاف ایک پیج پر ہیں۔
پاکستانی نوجوانوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو ماحول دوست ترقی میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ موسمیاتی خطرات سے بچا جا سکے ، گرین پروڈکٹیویٹی 2.
انہوں نے کہا کہ حکومت گرین منصوبوں کی تکمیل کے لیے ٹھوس اقدامات بروئے کار لا رہی ہے۔ یہ ملک خداداد ہمارا گھر ہے ، یہ ملک نہیں تو ہماری سیاست بھی نہیں ، اختلاف رائے جمہوریت کا حسن اور ملکی سیاست ایک خاندان کی طرح ہوتی ہے ، جس طرح ایک خاندان اور فیملی میں ہر فرد کی اپنی رائے و سوچ ہوتی ہے ، اسی طرح تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اختلاف رائے کا حق حاصل ہوتا ہے ، آپس میں اختلافات ہو جائیں تو ملک کے اندر رہتے ہوئے ان اختلاف کا ختم کرنا ہی جمہوریت کا حسن ہے ۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے بہت سخت مارشل لا کا سامنا کیا لیکن دونوں مارشل لائوں سے زیادہ جبر کا ہم نے بانی پی ٹی آئی کے دور میں سامنا کیا، ہم جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں بھی گئے، میڈیا پر بھی پابندیاں لگیں،اس سب کے باوجود اس سیاسی جنگ کو ہم نے ریاست کی حدود میں رہ کر لڑا،آج تک کسی جماعت نے بیرون ممالک جاکر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ اورپاکستان کو عالمی عدالتوں کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا۔
احسن اقبال نے کہاکہ جب بھی پاکستان کے عالمی برادری سے اچھے تعلقات کی کوشش ہوتی ہے تو اس کی تکلیف پی ٹی آئی اور بھارت کو ہوتی ہے ،ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے، تو اس کی تکلیف پی ٹی آئی اور بھارت کو ہوتی ہے ،اگر آئی ایم ایف کا پروگرام ہوتا ہے تو تکلیف پی ٹی آئی کو ہوتی ہے یا بھارت کو۔
وفاقی وزیر نے پاکستان میں گزشتہ ادوار میں سیلاب، زلزلہ اور دیگر قدرتی آفات کے باعث پیش آنے والے نقصانات کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہا کہ 2022 میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے ملکی معیشت کو 30 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ اڑان پاکستان اور ویژن 2030 کے تحت ہر شعبے میں جدید ترجیحات کو شامل کیا گیا ہے ۔
کانفرنس کا مقصد صنعتی شعبے میں کاربن اخراج میں کمی، گرین ہائیڈروجن کا کردار، ایشیا میں پائیدار وسائل کے استعمال کا فروغ، پائیدار ترقی کے لیے مالیاتی اداروں کی ذمہ داریاں وصنعتی پیداوار، مسابقت اور برآمدات میں اضافے کے لیے ماحولیاتی، سماجی اور گورننس فریم ورک کے نفاذکے حوالے سے علاقائی تعاون کو مضبوط بنانا، علم کے تبادلے کو فروغ دینا اور کم کاربن و پائیدار صنعتی ترقی کے نئے مواقع کو اجاگر کرنا تھا۔
کانفرنس سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں شرکاء میں سوینیئرز جبکہ لمز انرجی انسٹیٹیوٹ کے سینئر ایڈوائزر ڈاکٹر فیاض چوہدری نے وفاقی وزیر کو شیلڈ پیش کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: احسن اقبال وفاقی وزیر پی ٹی آئی نے کہا
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔