بانی پی ٹی آئی ایک دن بھی جیل میں نہیں رہنا چاہتے، ان کا دل نہیں لگ رہا، رانا ثنا
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
رانا ثناء : فائل فوٹو
وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی ایک دن بھی جیل میں نہیں رہنا چاہتے وہاں ان کا دل نہیں لگ رہا۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن جیل میں اے ون ہے، علاج بھی بہترین ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو پہیہ جام کی کال دی اس کے لیے ان کی کیا تیاری تھی؟ بانی پی ٹی آئی 8 فروری کو بھی اس یقین میں تھے کہ پورا ملک جام ہوجائے گا، یہ عید کے بعد تحریک کی بات کرتے ہیں اس سے کچھ بھی نہیں ہونے والا۔
رانا ثناء نے کہا کہ جس طرح کے انھوں نے دھرنے دیے اس سے بہتر تھا نہ دیتے، ایسے احتجاج اور دھرنوں سے شاید پی ٹی آئی کے ساتھ سازش ہورہی ہے، پی ٹی آئی کے خلاف سازش ہو رہی ہے یا یہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 26 نومبر کو پی ٹی آئی کو کہا تھا کہ ڈی چوک کے بجائے سنگجانی چلے جائیں، آپ سے بات ہوگی، یہ سنجیدہ کوشش تھی، تحریک انصاف یا شاید بانی پی ٹی آئی نے انکار کیا، ان کو ایک طرف سے فیڈ کیا جا رہا تھا کہ بس انقلاب آنے کو تیار ہے، محسن نقوی ان کے ساتھ براہ راست گفتگو میں شامل تھے کہ ڈی چوک نہ جائیں، بانی پی ٹی آئی پہلے اس بات پر رضا مند ہوئے پھر اس بات سے پیچھے ہٹ گئے۔
رانا ثناء نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی وزیراعظم تھے تب بھی بشریٰ بی بی فیصلے کرتی تھیں، ثبوت موجود ہیں اب بھی بشریٰ بی بی نے جو کہا وہی ہوا۔
رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ ملاقاتوں کو سیاست، گالم گلوچ کے لیے استعمال نہ کریں تو کون روکتا ہے؟
سسٹم چاہ رہا ہے بانی سر جھکا لیں وہ یہ نہیں کرنا چاہتے، عمیر نیازی
پروگرام میں شریک پی ٹی آئی رہنما عمیر نیازی نے کہا کہ مذاکرات کی قیمت ہوتی، نوازشریف سیاست سے باہر ہوئے ملک سے باہر گئے، بانی پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ اپنی ذات کے لیے فیور نہیں مانگ رہا، ان کے کیسز عدالتوں میں ہیں وہ کہتے ہیں کہ کیسز لگائیں، سسٹم چاہ رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سر جھکا لیں وہ یہ نہیں کرنا چاہتے۔
عمیر نیازی نے کہا کہ کسی سیاستدان نے جیل میں مسلسل اتنے دن نہیں گزارے جتنے بانی پی ٹی آئی نے گزارے، علیمہ خان کا پی ٹی آئی کی سیاست میں کوئی کردار نہیں، وہ اپنے بھائی کی رہائی کے لیے کھڑی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی رانا ثناء نے کہا کہ جیل میں کے لیے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔