بانی پی ٹی آئی کے مقدمات پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کے مختلف مقدمات پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی۔
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ فیصلہ معطل کرنے کی اپیل پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا جبکہ سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی بریت کے خلاف حکومتی اپیل پر پراسیکیوٹر کو تفیصلی فیصلہ جمع کرانے کی مہلت دے دی گئی۔
ہتک عزت کیس میں شہباز شریف کیخلاف بانی کی اپیلوں پر فریقین کو نوٹسز جاری کردیے گئے۔ پنجاب حکومت نے اراضی کے تین مقدمات میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت منظوری کے خلاف اپیلیں واپس لے لیں۔
عدالت نے وکیل سردار لطیف کھوسہ کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی استدعا مسترد کردی۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ ہم فوجداری کیس میں ایسا حکم جاری نہیں کرسکتے۔ ازخودنوٹس کا اختیار ہمارے پاس باقی نہیں رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔