بیوی کو قتل کرنے والے منشیات کے عادی شوہر کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ برقرار
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
— فائل فوٹو
بیوی کو قتل کرنے والے منشیات کے عادی شوہر کی اپیل سپریم کورٹ نے خارج کر دی اور شوہر وارث مسیح کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
جسٹس ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا جس میں کہا گیا ہے کہ خواتین معاشرے کی برابر کی رکن ہیں جو تحفظ، احترام اور وقار کی حق دار ہیں، معاشرے میں خواتین کے ساتھ معمولی باتوں پر جانوروں جیسا سلوک اور بہیمانہ تشدد کیا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ خواتین پر ہونے والے وحشیانہ تشدد کی ایک بڑی وجہ منشیات کی لت ہے، کسی کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کا مقدس رشتہ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ریاست جامع قانون سازی اور نفاذ کے طریقۂ کار، معاون پروگراموں سے خواتین پر اس ظلم کو روکے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خواتین کا تحفظ آئین کے آرٹیکل 9 حقِ زندگی و آزادی اور آرٹیکل 25 برابری کے تحت ریاست کی آئینی ذمے داری ہے، استغاثہ کے مطابق ملزم منشیات کا عادی تھا اور اپنی بیوی کے ساتھ اکثر جھگڑا کرتا تھا، ملزم نے 6 جولائی 2015ء کی آدھی رات کو بیوی اور 2 کمسن بچوں کو ڈنڈوں کے وار کر کے شدید زخمی کیا، ملزم کی اپنی بیٹی نے بطور چشم دید اور زخمی گواہ اپنے باپ کے خلاف گواہی دی۔
کلفٹن پولیس نے ملزم سمیع اللّٰہ کو گرفتار کر لیا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی موت کھوپڑی کی ہڈی ٹوٹنے اور دماغی چوٹوں کی وجہ سے ہوئی، جب بیوی گھر کے اندر ماری جائے تو حالات کی وضاحت کرنے کی بنیادی ذمے داری شوہر پر عائد ہوتی ہے، ملزم ٹرائل کے دوران خاموش رہا اور اپنی بیوی کی غیر فطری موت کی کوئی معقول وجہ پیش نہ کر سکا۔
سپریم کورٹ کے مطابق ملزم کا وقوعے کے بعد مفرور ہونا، تدفین میں شریک نہ ہونا اور پولیس کو اطلاع نہ دینا اس کے خلاف سنگین شواہد ہیں۔
واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ملزم وارث مسیح کو اپنی بیوی کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی، ٹرائل کورٹ نے بچوں کو زخمی کرنے پر ملزم کو 1 سال قیدِ بامشقت اور دیت کا 5 فیصد جرمانہ ادا کرنے کی سزا بھی دی تھی۔
بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ سزائے موت کورٹ نے
پڑھیں:
مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں انٹیلیجنس بیسڈ مؤثر کارروائیاں جاری ہیں، مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے۔
سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران متعدد دہشتگرد گرفتار کیے گئے، گرفتار دہشتگردوں میں سہولتکار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں، کارروائی میں دہشتگردوں کےمتعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔
علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے، دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود برآمد کرلیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز تیز کر دیے گئے، دہشت گردی کے خاتمے اور علاقے میں امن و امان کے قیام تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔