WE News:
2026-06-03@08:12:03 GMT

تیراہ کی چرس کیوں مشہور ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

تیراہ کی چرس کیوں مشہور ہے؟

’بھائی، تیراہ والا چاہیے۔ بہت دور سے اسی کے لیے آیا ہوں۔ دوسری ملاوٹ والی چیز نہ دینا‘۔

پاک افغان طورخم شاہراہ کے ساتھ ایک چھوٹے خالی کھوکھے میں گاہک دکاندار سے اصلی مال کا مطالبہ کر رہا تھا جبکہ دکاندار بار بار یہی کہہ رہا تھا کہ وہ اصلی تیراہ والی ہی فروخت کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کسٹمز کی بڑی کارروائی، 55 کروڑ 24 لاکھ روپے کی 188 کلو چرس پکڑلی

باتوں میں گاہک کی تسلی کے لیے دکاندار نے ماچس نکالی اور سگریٹ بھرنا شروع کیا۔ ’آپ پہلے پی کر تسلی کر لیں۔ یقین ہو جائے تو لے لیجیے۔ ویسے اصلی مال کی پہچان تو ہوگی آپ کو‘۔

کھوکھے میں بیٹھے افنان خان (فرضی نام) نے بتایا کہ وہ چترال سے آئے ہیں اور جب بھی پشاور آنا ہوتا ہے تو وہ اس جگہ ضرور آتے ہیں۔

پاک افغان مرکزی شاہراہ پر منشیات کے کھوکھے

افنان خان دکاندار سے باتیں کر رہے تھے جو ان کے لیے سگریٹ تیار کرنے میں مصروف تھا۔ دکاندار نے سگریٹ تیار کی، پہلے 2 کش لگا لیے اور پھر سگریٹ افنان کو دے دی۔ جبکہ کھوکھے کے شیشے سے چند گز کے فاصلے پر وہ پولیس ناکے پر موجود اہلکار کو بھی دیکھ رہے تھے۔

افنان جس کھوکھے میں بیٹھا ہے، یہ پشاور کے کارخانو پھاٹک سے چند گز کے فاصلے پر پاک افغان طورخم شاہراہ پر واقع درجنوں کھوکھوں میں سے ایک ہے جہاں کھلم کھلا چرس سمیت دیگر منشیات فروخت ہوتی ہیں۔ اور کچھ ہی فاصلے پر اینٹی نارکوٹکس کا صوبائی ہیڈکوارٹر ہے۔ جبکہ 2 قدم کے فاصلے پر پولیس چوکی اور کارخانو پھاٹک ناکہ ہے۔ ان کھوکھوں میں ہر قسم کی منشیات ملتی ہیں لیکن مانگ تیراہ کی چرس کی زیادہ ہے جو ’تیراہ وال‘ کے نام سے مشہور ہے۔

تیراہ چرس مشہور کیوں؟

پاک افغان شاہراہ پر منشیات فروخت کرنے والے دکاندار نے بتایا کہ پورے ملک سے لوگ یہاں آتے ہیں اور سب سے زیادہ تیراہ کی چرس کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جو لوگ پشاور گھومنے یا خریداری کے لیے آتے ہیں وہ اکثر یہاں آتے ہیں۔ کچھ ساتھ بھی لے جاتے ہیں جبکہ کچھ یہاں چسکا پورا کرکے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:چیئرمین پی ٹی اے نے ایمل ولی سے چرس بھرا سیگریٹ مانگ لیا، اجلاس میں جھڑپ

انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی بھی کبھی کبھار آتے ہیں۔ پنجاب والے زیادہ آتے ہیں، کراچی والے، جبکہ چترال والے بھی بہت آتے ہیں۔

ان کے مطابق اکثر لوگوں کو معیار کا پتا نہیں ہوتا، بس تیراہ کا نام سن رکھا ہوتا ہے اور وہی مانگتے ہیں۔ ان کے مطابق تیراہ کی چرس ملاوٹ سے پاک ہوتی ہے۔

افنان خان کا تجربہ

افنان خان کے مطابق وہ کبھی کبھار چسکے کے لیے پیتے ہیں اور سردیوں میں گاؤں کی راتوں کی محفلوں میں اسے پسند کیا جاتا ہے، جبکہ سردی کا توڑ بھی سمجھا جاتا ہے۔ تیراہ کی چرس پورے پاکستان میں مشہور ہے۔ میری ڈیوٹی کراچی میں تھی تو وہاں بھی پسند کی جاتی تھی۔ خالص ہوتی ہے، ذرا نرم، تیز اثر والی اور کیمیکل سے پاک ہوتی ہے جس سے سر میں درد یا الٹی نہیں آتی۔

انہوں نے بتایا کہ چرس کو اکثر لوگ چسکے کے لیے پیتے ہیں۔ جب آپ نمک منڈی کڑاہی کے لیے جا رہے ہوں تو چرس پینے سے جم کر کھا سکتے ہیں۔ اس سے بھوک زیادہ لگتی ہے۔ اس کی لت لگ جائے تو یہ نشہ ہے۔

ضلع خیبر میں منشیات کا کاروبار

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے آبائی علاقے، قبائلی ضلع خیبر میں دیگر علاقوں کی نسبت منشیات کا کاروبار زیادہ ہے۔ خیبر پختونخوا سے ضم ہونے کے بعد حکام کے مطابق اس میں کمی آئی ہے لیکن یہ ختم نہیں ہوا۔ اب بھی مرکزی شاہراہوں اور بازاروں میں منشیات کی دکانیں موجود ہیں اور کھلم کھلا فروخت ہو رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد: طلبہ کو آئس، ایکسٹیسی بیچنے والی خاتون ساتھیوں سمیت گرفتار

ضلع خیبر میں تعینات رہنے والے ایک اعلیٰ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خیبر میں چرس سے لے کر آئس تک سب کچھ مل جاتا ہے۔ چرس کو تو خیبر میں منشیات تصور ہی نہیں کیا جاتا۔ وہاں تو مقامی سطح پر آئس اور ہیروئن تیار ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فاٹا انضمام سے پہلے منشیات کا کاروبار بہت زیادہ تھا، جس میں اب کافی حد تک کمی آئی ہے لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ سب کو پتا ہے، ڈھکی چھپی بات نہیں۔ بس خاموشی ہے، اور جب زیادہ پریشر آتا ہے تو کارروائی ہوتی ہے، پھر اگلے دن دوبارہ شروع۔

ان کے مطابق خیبر میں بےروزگاری زیادہ ہے اور محدود پیمانے پر منشیات کے کام پر حکومت خاموش ہے، اسی وجہ سے دکانوں پر کارروائی بھی نہیں ہوتی۔

تیراہ بازار، چرس کی سب سے بڑی منڈی

تیراہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کا ایک دور افتادہ پسماندہ علاقہ ہے جو افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے ملحق ہے، جس کی وجہ سے یہ علاقہ دہشتگردی سے بھی بری طرح متاثر رہا ہے۔ پہاڑی، دورافتادہ اور افغانستان سے ملحقہ ہونے کی وجہ سے اس علاقے میں چرس کی کاشت ہوتی ہے۔ چرس کی سب سے بڑی منڈی بھی تیراہ بازار کو کہا جاتا ہے، جہاں کھلم کھلا چرس کی بولی لگتی ہے اور کاروبار ہوتا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق تیراہ کی پہاڑی زمین چرس کی کاشت کے لیے موزوں ہے، اور پاکستان بننے سے پہلے بھی یہاں کاشت ہوتی تھی جو اب بھی جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کیریبین میں مبینہ منشیات سے بھری کشتی پر امریکا کا حملہ، 3 افراد ہلاک

خیبر سے تعلق رکھنے والے صحافی عبدالقیوم آفریدی کا ماننا ہے کہ تیراہ میں امن و امان کی خراب صورت حال، انضمام اور دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کے بعد کاشت بہت کم ہوئی ہے، لیکن وہ مانتے ہیں کہ کاشت اب بھی ہو رہی ہے۔

ایک مقامی شخص نے بھی بتایا کہ تیراہ سے زیادہ تر لوگوں نے نقل مکانی کی ہے، اور خراب صورت حال کے باعث لوگ کاشت نہیں کر رہے، جبکہ کچھ علاقوں میں اب بھی کاشت ہو رہی ہے۔

تیراہ کی چرس کیوں مشہور ہے؟ اس سوال کے جواب میں ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ اس پر زیادہ محنت کی جاتی ہے جبکہ ملاوٹ نہیں ہوتی۔ مزید بتایا کہ سردی کے موسم میں کٹائی کے بعد اسے چھوڑ دیا جاتا ہے جب تک اس پر برف باری نہ ہو جائے، جس سے چکناہٹ آتی ہے اور ذائقہ اچھا ہو جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تیراہ میں تو چرس کھلم کھلا مل جاتی ہے لیکن جگہ جگہ ناکے اور چیک پوسٹوں کے باعث اب اسے کہیں منتقل کرنا مشکل ہو گیا ہے، جس کے باعث لوگ آہستہ آہستہ متبادل فصلیں اگانا شروع کر رہے ہیں جو چرس کے مقابلے میں بالکل منافع بخش نہیں ہیں۔

قیوم آفریدی کے مطابق تیراہ کی زمین چرس کے لیے مشہور ہے، لیکن اس میں آلو، لوبیا اور مکئی بھی ہوتی ہے۔ تاہم فائدہ چرس میں زیادہ ہے۔

تیراہ میں کتنی چرس پیدا ہوتی ہے؟

سروے کے مطابق ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میں سب سے زیادہ چرس پیدا ہوتی ہے۔ سال 2021 میں خیبر پختونخوا حکومت نے چرس کے غیر قانونی استعمال کو ختم کرنے اور بھنگ کی کاشت کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے کام شروع کیا تھا۔ اس کے لیے 3 ضم شدہ اضلاع خیبر، اورکزئی اور کرم میں بھنگ کے حوالے سے سروے کیا گیا۔ یہ سروے پشاور یونیورسٹی کے متعلقہ شعبے کی مدد سے کیا گیا تھا۔

سروے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان تینوں اضلاع میں تقریباً 49 ہزار ایکڑ زمین پر بھنگ کی کاشت ہوتی ہے، جس سے سالانہ 50 لاکھ کلوگرام چرس حاصل کی جاتی ہے۔

سروے میں بتایا گیا کہ ان علاقوں میں کاشت ہونے والی بھنگ اعلیٰ معیار کی ہوتی ہے، اور قبائلی اضلاع میں زیرِ کاشت بھنگ میں نشے کا عنصر 42 فیصد ہے جبکہ باقی دنیا میں یہ صرف 0.

3 فیصد ہوتا ہے۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ بھنگ کو قانون کے مطابق ادویات میں استعمال کر کے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، جس سے اس کا غیر قانونی استعمال بھی روکا جا سکے گا اور مقامی آبادی کو بھی فائدہ ہوگا۔

کیا چرس صرف تیراہ سے ہی آتی ہے؟

خیبر کے چرس فروش اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ چرس صرف تیراہ سے آتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ افغانستان اب بھی منشیات کی سب سے بڑی منڈی ہے، اور چرس سمیت دیگر منشیات افغانستان سے اسمگل ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق تیراہ اور افغانستان کی چرس کا معیار تقریباً ایک جیسا ہے، اور افغانستان کے قبائلی علاقوں سے ملحقہ علاقے بھی بھنگ کی کاشت کے لیے مشہور ہیں۔

ان کے مطابق چرس کا استعمال مقامی سطح پر کم ہے، لیکن ملک کے دیگر علاقوں خصوصاً اسلام آباد میں زیادہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان چترال چرس کراچی وادی تیراہ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان چترال کراچی وادی تیراہ انہوں نے بتایا کہ کے مطابق تیراہ خیبر پختونخوا یہ بھی پڑھیں تیراہ کی چرس ان کے مطابق افنان خان پاک افغان کھلم کھلا تیراہ میں فاصلے پر زیادہ ہے مشہور ہے ہوتا ہے آتے ہیں کی کاشت جاتا ہے ہوتی ہے ہیں اور کاشت ہو ہے اور چرس کی اب بھی کے لیے

پڑھیں:

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟

گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ

بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟

بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔

نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔

بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔

حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔

ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔

تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔

کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟

پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔

2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان

دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • وسیم، مصباح اور فخرِ عالم نے حج کرکے بال کیوں نہیں منڈوائے؟
  • خیبر پختونخوا میں آندھی اور بارش؛ دیواریں و چھتیں گرنے سے اب تک 2 افراد جاں بحق
  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور