Jasarat News:
2026-06-02@20:41:56 GMT

دنیا کے 9 ممالک بچوں کے لیے سوشل میڈیا پابندیوں پر متحرک

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لندن:دنیا بھر میں بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت اور ڈیجیٹل تحفظ سے متعلق بڑھتے خدشات کے پیش نظر کم از کم 9 ممالک نے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے، محدود کرنے یا اس پر قانون سازی کی تیاری شروع کر دی ہے، جسے ماہرین عالمی ڈیجیٹل پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

ان ممالک میں آسٹریلیا، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، یونان، ملائیشیا، سلوانیا، اسپین اور برطانیہ شامل ہیں۔

سب سے پہلے آسٹریلیا نے دسمبر 2025 میں تاریخی اقدام کرتے ہوئے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی نافذ کی، جس کے تحت فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ، ایکس، ریڈیٹ اور دیگر پلیٹ فارمز تک رسائی محدود کر دی گئی جبکہ واٹس ایپ اور یوٹیوب کڈز کو استثنا دیا گیا۔ حکومت نے خبردار کیا کہ عمر کی تصدیق کا مؤثر نظام نہ بنانے والی کمپنیوں پر 3 کروڑ 44 لاکھ ڈالر تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

ڈنمارک میں 15 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی کے قانون کی تیاری جاری ہے اور اس مقصد کے لیے عمر کی تصدیق کی خصوصی ایپ متعارف کرانے پر کام ہو رہا ہے۔ فرانس میں پارلیمان کے ایوان زیریں نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا بلاک کرنے کا بل منظور کر لیا ہے جو اب مزید پارلیمانی مراحل سے گزرے گا۔

جرمنی میں حکومتی جماعت نے 16 سال سے کم عمر افراد پر پابندی کی تجویز پر مشاورت شروع کی ہے، تاہم اتحادی جماعتوں کے تحفظات کے باعث اس کی منظوری غیر یقینی ہے۔ یونان میں حکومت جلد 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے پابندی کا اعلان کر سکتی ہے۔

ملائیشیا نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ 16 سال سے کم عمر صارفین پر پابندی کا منصوبہ بنا رہا ہے جس کا اطلاق رواں سال متوقع ہے جبکہ سلوانیا میں اس حوالے سے قانون کا مسودہ تیار کیا جا چکا ہے اور آن لائن مواد کی نگرانی سخت کرنے پر بھی غور ہو رہا ہے۔

اسپین کی حکومت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پابندی کا عندیہ دیا ہے اور ساتھ ہی نفرت انگیز مواد پھیلانے والی کمپنیوں کے عہدیداران کے خلاف قانونی کارروائی کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ برطانیہ میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات پر شراکت داروں سے مشاورت جاری ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سال سے کم عمر بچوں کے لیے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی

پڑھیں:

شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق

 ( ملک رحمان)صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع شانگلہ میں ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔

 یہ واقعہ ضلع شانگلہ کی تحصیل الپورئی میں پیش آیا، جس میں گزشتہ رات مکان کی چھت اچانک ڈھہ گئی اور گھر میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے، واقعے میں ایک بچہ زخمی بھی ہو گیا ہے، جسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔

 مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے تمام لاشیں اور زخمی بچی کو نکال لیا ہے، جاں بحق بچوں میں ناظرہ، سمیرا، رضوان، نایاب، حیا نور اور عمیرہ بی بی شامل ہیں، جن کی عمریں 5 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والد جہان بشر کا کچھ ہی عرصہ قبل انتقال ہوا تھا، اور ان کا مکان کچا تھا۔ مرنے والوں میں پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل