پشاور میں دفعہ 144 نافذ، ہوائی فائرنگ اور پتنگ بازی پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: پشاورکی ضلعی انتظامیہ نے طیاروں کو حادثات سے بچانے کے لئے دفعہ 144نافذکرتےہوئے ایئر پورٹ کے اردگرد علاقوں میں پتنگ بازی،کبوتر بازی اور لیزر بیم استعمال کرنے پر پابندی لگا دی ۔
پشاور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق پشاور ایئر پورٹ میں فلائیٹ سیفٹی کے لئے دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ہے۔
پابندی پشتہ خرہ، گلبرگ، سواتی پھاٹک، لنڈی اخون محمد، یونیورسٹی ٹاؤن اور ملحقہ علاقوں پر ہوگی اور ان علاقوں میں ہوائی فائرنگ، کبوتر بازی، پتنگ بازی، ڈرون اڑانے، اور ہوائی جہازوں کے لیے نقصان دہ لیزر لائٹس کااستعمال دو ماہ تک نہیں کیا جاسکے گا ۔
برائلر مرغی کی قیمت میں اضافہ
پشاور ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ شہریوں اور ہوائی ٹریفک کی حفاظت کے پیش نظر کیا گیا ہے،خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، عوام سے تعاون کی اپیل کی جاتی ہے تاکہ فضائی حادثات سے بچا جا سکے۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔